• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیدیا

تاریخی مسجد کمال مولا---فائل فوٹو
تاریخی مسجد کمال مولا---فائل فوٹو

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد کو ہندو دیوی ’واگ دیوی‘ کا مندر قرار دیتے ہوئے ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی جبکہ مسلم فریق کی درخواست مسترد کر دی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دھار شہر میں واقع یہ تاریخی مقام جسے بھوج شالا کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے تنازع کا شکار ہے۔

مسلم برادری یہاں جمعے کی نماز ادا کرتی رہی ہے جبکہ 2003ء کے معاہدے کے تحت ہندوؤں کو یہاں منگل کے روز عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا کی رپورٹ پر انحصار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد سے پہلے یہاں ہندو مندر موجود تھا۔

عدالت نے مسلم فریق کو متبادل زمین لینے کا حکم دیا ہے تاکہ نئی مسجد تعمیر کی جا سکے۔

عرب میڈیا کے مطابق فیصلے کے بعد اتوار کو بھوج شالا کمپلیکس میں زعفرانی جھنڈے لہرائے گئے اور ہندو تنظیموں نے دیوی کی عارضی مورتی نصب کر کے مذہبی رسومات ادا کیں، اس دوران علاقے میں سخت سیکیورٹی تعینات رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلم فریق کے وکلاء نے فیصلے کو ’قانون اور تاریخ کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے 1991ء کے قانون کی روح کے منافی ہے جس کے تحت 1947ء میں موجود مذہبی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ بابری مسجد کیس کے بعد ایک نئی مثال بن گیا ہے جس سے ملک بھر میں مزید مساجد کے خلاف دعوے سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ہندو تنظیموں نے فیصلے کو ’ہندو تہذیب کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کے بعد ہندو قوم پرستی کو مزید تقویت ملی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید