اقوامِ متحدہ نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں جو کئی مواقع پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر ایسے حملے کیے جن میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید ہو گئے جبکہ متعدد اموات غیر قانونی قرار دی گئیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً 73000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نسل کشی جیسے اقدامات روکے، بے گھر فلسطینیوں کو گھروں کو واپسی کی اجازت دے اور فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔
رپورٹ میں مغربی کنارے کی صورتِ حال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جہاں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اقوامِ متحدہ کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات بلاجواز اور بے خوفی کے ساتھ جاری ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری صورتِ حال فلسطینی عوام کی زندگی، شناخت اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔