سوشل میڈیا پرایک روتی ہوئی خاتون کی وڈیو وائرل ہے، شاید ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ محترمہ نے خواجہ سعدرفیق پر بے بنیاد الزامات لگائے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے۔ جواب میں خواجہ صاحب نےقانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں نوٹس بھجوا دیا۔ وڈیو میں خاتون رو رہی تھیں کہ نہ ان کا باپ ہے نہ شوہر ، ایک بیمار بھائی ہے سو وہ اُسے اکیلا چھوڑ کرکیسے اسلام آباد جاکر مقدمے کا سامنا کریں، نیزاگران کے خاندان والوں کو پتا چل گیا تو اُن کی کیا عزت رہ جائیگی۔سچ پوچھیں تو مجھے خاتون پربڑا ترس آیا لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم جس پر سوشل میڈیا پربغیر ثبوت کے گند اچھال رہے ہیں اس کی بھی کوئی فیملی ہے، اسے بھی تکلیف ہوئی ہوگی، اس کا بھی دل دُکھا ہوگا؟
لیکن جب کوئی قانونی طورپر ہمارے خلاف ایکشن لیتاہے تو ہمیں یکدم یاد آتاہے کہ ہم نے ایسا کیا کردیا ہے؟ ہمارے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟۔ہم بلاثبوت کسی کی شخصیت کو برباد بھی کرتے ہیں اور یہ حق بھی نہیں دیتے کہ وہ اس بے بنیاد پراپیگنڈے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرے۔ایسی کسی بھی صورت میں متاثرہ شخص کے پاس تین آپشنز ہوتی ہیں۔ یا وہ ساری بات کو اگنور کردے،ذاتی طور پر اُسی طرح جواب دے یا قانون کا سہارا لے۔ اس کے علاوہ اور کیا کرنا چاہئے؟
بہرحال یہ کالم اگر سعد رفیق صاحب تک پہنچے تو میری ذاتی طورپر ان سے گزارش ہے کہ درگزر فرمائیں اور خاتون کو معاف کر دیں۔ خاتون کو بھی چاہیے کہ یوں بغیر ثبوت کے سوشل میڈیا پر کسی کی عزت نہ اچھالیں اور اگرہمت کرہی لی ہے تو پھر واشگاف اندازمیں معافی بھی مانگ لیں یہ نہ ثابت کریں کہ آپ بری الذمہ ہیں۔اگر آپ مسائل میں گھری ہوئی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو لائسنس مل گیا ہے کہ آپ کسی کی بھی عزت اچھال سکتی ہیں۔اس کے باوجود میں آپ پھر سعد رفیق سے درخواست کروں گا کہ جانے دیں۔
٭ ٭ ٭
میرےایک دوست کومیوزک انسٹرومنٹ سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک دن وہ اپنی پریکٹس کیلئےہارمونیئم خرید لایا۔بیوی نے ہارمونئیم کو دیکھتے ہی آسمان سرپر اٹھا لیااور ماں باپ ہکا بکا رہ گئے۔ سب کو لگا کہ وہ مراثی ہوگئے ہیں۔معاملہ اتنا بگڑا کہ دوسرے ہی دن اسے ہارمونئیم کسی دوست کے پاس رکھوانا پڑ گیا۔ اتفاق سے کچھ عرصے بعد اس کے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ایک مہمان نے الیکٹرک پیانو گفٹ کیا۔ بیٹا بہت خوش تھا اور یوٹیوب سے دیکھ کر اس نے ٹوٹا پھوٹا‘ہیپی برتھ ڈے ٹویو’ بجانا بھی سیکھ لیا۔
حیرت انگیز طور پر نہ کسی نے اعتراض کیا نہ کسی کو الیکٹرک پیانو گھر میں رکھنے سے مسئلہ ہواحالانکہ ہارمونئیم اور پیانودونوں سے سُر نکلتے ہیں اور دونوں ہی میوزک میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں تاثر۔جب کسی چیز کا تاثر بن جائے اور گہر ابھی ہوجائے تو انسان کادماغ بھی ایک رُخ پر سوچنا شروع کردیتاہے۔یوں سمجھ لیں دماغ پر ایک شیشے والی عینک لگ جاتی ہے۔اس کی ایک اور مثال بھی ہے۔
دوبندے تاش کھیل رہے ہوں تو پہلا خیال ذہن میں یہی آتا ہے کہ جواری ہوں گے۔لیکن اگر دو بندے شطرنج کھیل رہے ہو تو یقین ہوجاتاہے کہ بہت جینئس ہیں۔دونوں اِن ڈور گیمز ہیں، دونوں میں جواء کھیلا جاسکتاہے لیکن دونوں کا تاثر دماغوں میں اتنا راسخ ہوچکا ہے جودوسری طرف دیکھنے ہی نہیں دیتا۔تالے میں زنگ لگ جائے تو لاک ماسٹر اُس میں تیل ڈالتا ہے اور دو تین دفعہ چابی گھمائے تو تالا رواں ہوجاتاہے۔زنگ آلود دماغ بھی تیل مانگتاہے، علم کا تیل، دلیل کاتیل۔ جن کے دماغوں میں یہ تیل پہنچ جاتاہے ان کی خشکی تری میں بدل جاتی ہے اور دماغ کے سارے دروازے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے علم کے تیل سے زیادہ سانڈے کے تیل کی ڈیمانڈہے۔
٭ ٭ ٭
جن لوگوں میں حس مزاح مائنس ففٹی ہوتی ہے ان سے بات کرنا خودکوزندہ درگور کرنے کے مترادف ہوتاہے۔لطیفہ تودور کی بات یہ لوگ عام سے شگفتہ جملے کو بھی انجوائے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ایسے لوگ ‘حس مزاح’ سے اس قدر ناواقف ہوتے ہیں کہ انہیں ‘حس مزاح’ لکھنا بھی پڑ جائے تو اسے ‘حصے مزاح’ لکھ جائیں گے۔پچھلے دنوں ایک سیمینار میں ایسے ہی ایک عالم فاضل سے ملاقات ہوئی۔ڈگریوں کا ایک انبار حاصل کرچکے تھے لیکن بدقسمتی سے حس مزاح میں فیل تھے۔چائے کے وقفے میں پوچھنے لگے کہ آپ کے خیال میں ملک و ملت کی بہتری کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔میں نے کہا زیادہ سے زیادہ سونا چاہیے تاکہ کم سے کم مشورے دیے اورسنے جاسکیں۔ انہوں نے کچھ دیر غور کیا پھر بولے‘زیادہ سوناتو صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہوتا۔’ یہ سنتے ہی میری چھٹی حس نے بتا دیا کہ یہ بہترین شکار ہے۔
تقریریں سن سن کر ویسے بھی بہت بوریت ہورہی تھی سو میں نے سیلف انجوائمنٹ کیلئے بڑی سنجیدگی سے کہاکہ‘زیادہ سونے سے ہی تو انسان دانشور بنتاہے’۔وہ مزیدحیران ہوکر بولے‘ لیکن سونے سے انسان کیسے دانشور بن سکتاہے دانشور بننے کیلئے تو جاگتے رہنا ضروری ہے’۔ میں نے کہا‘اگر جاگنے سے دانشوری ملتی تو چوکیدار بہت بڑا دانشور ہوتا’۔
انہوں نے مجھے ٹوکا‘ بھلا چوکیدار کیسے دانشور ہوسکتا ہے وہ تو چوکیدار ہوتا ہے’۔میں نے ان کا ہاتھ دبایا‘یقین کریں ہمارے محلے کا چوکیدار دانشور ہے’۔وہ چونکے اور آگے کو جھکتے ہوئے آہستہ سے بولے‘وہ پھر چوکیدار نہیں ایجنسیوں کا بندہ ہوگا’۔میں نے بھی پراسرارانداز میں دائیں بائیں دیکھا اور سرگوشی کی‘میرا بھی یہی خیال ہے بلکہ مجھے تو لگتاہے وہ یہودی ایجنٹ بھی ہے کیونکہ میں نے کئی دفعہ اسے محلے کے ایک خالی گھر کی دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے دیکھاہے ، منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا بھی رہا ہوتاہے ۔یقینادیوارِ گریہ کاتصور کرکے عبادت کرتاہے’۔اُن کے کان کھڑے ہوگئے۔ پریشانی سے بولے‘پلیز آپ فوری طور پر مقامی تھانے میں اطلاع کریں یا ون فائیو پر فون کریں۔’ میں نے بے بسی سے کہا‘ میں کیسے ون فائیوپر فون کرسکتا ہوں میرے پاس توون فائیو کا نمبر ہی نہیں’۔ جلدی سے بولے‘میں بتاتا ہوں، پہلے ون دبائیں، پھر فائیو....’’