چاند……
میں نے چاند پر اترنے کے بعد زمین کی سمت دیکھا،
مجھے یوں لگا، جیسے میں کسی بلند چوٹی سے اپنے مکان کو دیکھ رہا ہوں۔
سیارہ زمین کا نیلگوں پانی مجھے اپنی وادی میں بہتا دریا لگا،
اور اس پر چھایا بادلوں کا غلاف چمنی سے اٹھتا دھواں۔
مجھے خیال گزرا کہ شاید اس پل میری ماں جاگ گئی ہو،
اور شاید میرا باپ لکڑیاں کاٹنے جنگل کی سمت جا رہا ہو۔
یا پھر…شاید یہ سب میرے تخیل کا کرشمہ ہو…
شاید میں فقط بستر پر پڑا ایک فالج زدہ مریض ہوں،
جو چاند کو پانے کے لیے…
اپنے تخیل میں کہانیاں بن رہا ہو۔