انٹرویو……
'میں ایک رائٹر ہوں۔ میں نے انٹرویو پینل کو بتایا۔
'میری پہلی کتاب ’’سب سے بڑی جنگ‘‘ میں صحافتی تحریک کا احاطہ کیا گیا تھا،
اگلی کتاب ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘دو ناولز پر مشتمل تھی، جو بیسٹ سیلر ٹھہری،
میں نے اردو کے بہترین فکشن نگاروں کے انٹرویوز کیے،
یہ کتاب ’’فکشن سے مکالمہ‘‘کے نام سے شائع ہوئی، اور ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔
میرے افسانوں کے مجموعے کو بھی ناقدین اور قارئین کی جانب سے سراہا گیا۔
یہاں تک کہہ کر میں چپ ہوگیا، چیمبر میں پراسرار خاموشی چھائی تھی۔
آخر پینل کے ہیڈ مسٹر مجو نے کھنکھار کر گلا صاف کیا:
'وہ سب تو ٹھیک ہے جناب، لیکن ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ
آخر آپ کرتے کیا ہیں؟