سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں 20 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
کراچی کے علاقے سچل، محمود آباد اور جمشید کوارٹرز سے لاپتہ 3 شہری گھر واپس آ گئے، درخواست گزاروں اور تفتیشی افسران نے عدالت کو شہریوں کی واپسی سے متعلق آگاہ کیا، جس پر عدالت نے بازیاب ہونے والے افراد کی 3 درخواستیں نمٹا دیں۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب بھی 17 لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ تفتیشی افسران نے مختلف کیسز میں پیش رفت رپورٹس بھی عدالت میں جمع کروا دیں۔
جسٹس سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ تحقیقات میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے اور گمشدہ افراد کا پتہ کیسے چلایا جائے گا؟
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ہر کیس میں 3، 3 جے آئی ٹیز کے اجلاس ہو چکے ہیں اور مختلف اداروں کو خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں، وفاقی اداروں کی جانب سے جواب موصول ہونے تک مزید مہلت دی جائے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس، محکمۂ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی۔