قارئین! آپ کو بتاتا چلوں کہ بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی دھمکی شر انگیز ، ذہنی دیوالیہ پن، جنون اور جنگ پسندی کی عکاس ہے۔ بھارتی قیادت نے جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج جغرافیائی حدود سے ماورا ہوں گے، ایسی کوئی بھی کوشش نہ صرف پورے خطے بلکہ اس سے باہر بھی تباہ کن ہو گی۔ بھارتی آرمی چیف نے ایک روز قبل اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ پاکستان انتخاب کرلے کہ جغرافیہ میں رہنا ہے یا تاریخ میں ، آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کی اس گیدڑ بھبکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابل تردید حصہ ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا اشتعال انگیز بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کر سکی ، نہ ہی بھارتی قیادت 8دہائیاں گزرنے کے با وجوددرست اسباق سیکھ سکی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان کسی ذمے دار فوجی قیادت کا موقف نہیں بلکہ شکست خوردہ ذہنیت، جنگی جنون اور سیاسی دبائو میں مبتلا ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی داخلی ناکامیوں اور عسکری خفت کو چھپانے کیلئے اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے پر اتر آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برس ہونے والی کشیدگی اور آپریشن سندور کے نتیجے میں بھارت کو جس شرمندگی اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی آرمی چیف کا لب ولہجہ اسی خفت کو مٹانے اور اپنی قوم کو مصنوعی حوصلہ دینے کی ناکام کوشش دکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسی قیادت جو میدان میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے وہ اکثر الفاظ کی گولہ باری سے اپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ایک طرف مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری طرف بیانات دے کر دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بھارت کسی دبائوپر آمادہ نہیں ہوا۔ دراصل یہ اپنی ساکھ بچانے کی ایک سیاسی اور نفسیاتی کوشش ہے۔ ماضی میں بھی بھارت مختلف مواقع پر مذاکرات کو محض سفارتی وقفہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ تاہم اس بار بھارتی عوام اور سنجیدہ حلقے خود سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر سب کچھ نئی دہلی کے دعوئوں کے مطابق تھا تو پھر مذاکرات کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے ؟ اس لئے بھارت کے اندر بعض حلقے آرایس ایس کے حالیہ نرم اشاروں کو دراصل ایک غیر علانیہ اعتراف شکست قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر آگے چلکر مذا کرات کا کوئی عمل شروع ہو تو اسے اپنی دھمکیوں کا نتیجہ قرار دیکر داخلی بیانیہ بنایا جا سکے، لیکن زمینی حقائق ، آپریشن بنیان مرصوص کے نتائج اور گزشتہ برس کے واقعات پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ پاکستان پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے دفاع سے غافل نہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ ایک ایٹمی خطے میں اس قسم کی زبان درازی خطرناک نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔بھارت کا پاکستان کیخلاف جارحانہ رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ وسطِ اگست 1947 سے لیکر آج تک بھارت نے پاکستان کو کمزور کرنے، اسے غیر مستحکم رکھنے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کا کردار تاریخ کا وہ باب ہے جسے پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیوں کا ثبوت کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے میں بھارت کا کردار بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ہمیشہ دشمن کی نظر سے دیکھا ہے اور کبھی ایک اچھے ہمسائے کی طرح برتائو کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن پاکستان نے ہر آزمائش میں اپنی قوم کو متحد اور اپنی سرحدوں کو محفوظ رکھا۔ پاک فوج نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور جذبے کے ساتھ ملک کا دفاع کیا ہے وہ دنیا کیلئے مثال بن چکا ہے۔ ہماری فضائیہ، بحریہ اور بری فوج تینوں شاخیں اس سطح پر تیار اور تربیت یافتہ ہیں کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بھارتی فوجی قیادت کا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان کیا ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ ہے یا محض جذباتی ردِعمل؟ اگر یہ حکمتِ عملی ہے تو بہت خطرناک ہے کیونکہ 2جوہری ریاستوں کے درمیان اس طرح کے بیانات کشیدگی کو اس سطح تک لے جا سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی اور اگر یہ محض جذباتی ردِعمل ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت کی فوجی قیادت پاکستان کیخلاف اپنی ناکامیوں سے اتنی پریشان ہے کہ اس کا ذہنی توازن متاثر ہو چکا ہے۔ دونوں صورتوں میں بھارتی قیادت کا یہ رویہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ جنوبی ایشیا میں جنگ کے نتائج صرف 2ممالک یا اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی سا لمیت، خودمختاری اور وقار پر سمجھوتہ کر کے نہیں۔ آئی ایس پی آر کا جوابی بیان اس پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک فوجی ترجمان کا بیان نہیں بلکہ پوری قوم کا پیغام ہے۔ یہ پیغام بھارت کیلئے بھی ہے، بین الاقوامی برادری کیلئے بھی اور ان تمام طاقتوں کیلئے بھی جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں بے شک پاکستان زندہ ہے، پاکستان مضبوط ہے اور پاکستان کو اسکے جغرافیے سے مٹانے کا خواب دیکھنے والا خود اپنے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔