بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ 66 ملین سال قبل زمین سے ڈائنوسار سمیت تقریباً 75 فیصد جانداروں کے خاتمے کا سبب بننے والا شہابیہ نایاب قسم کا کاربونیشیئس کونڈرائٹس (carbonaceous chondrites) شہابیہ تھا جو نظامِ شمسی کے قدیم ترین اور نایاب شہابی پتھروں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ تحقیق برطانوی کولمبیا یونیورسٹی، پیرس، برسلز اور ویانا کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جس کے نتائج سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا یہ شہابیہ جزیرہ نما یوکاٹان سے ٹکرایا تھا جس سے گڑھا وجود میں آیا۔
اس تصادم کے نتیجے میں شدید زلزلے، سونامی، بڑے پیمانے پر آگ اور فضا میں گرد و غبار پھیل گیا تھا جس نے سورج کی روشنی روک دی اور کئی برس تک عالمی موسمی نظام کو شدید متاثر کیا۔
تحقیق کے مطابق یہ نایاب شہابیہ غالباً مشتری کے قریب بیرونی سیارچہ پٹی (آربٹل سرکل) یا نظامِ شمسی کے کسی ملبے سے بھرپور علاقے سے آیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شہابیے میں گندھک کی مقدار کم تھی، اس لیے بڑے پیمانے پر تباہی کی بنیادی وجہ گندھک نہیں بلکہ فضا میں پھیلنے والا باریک ملبہ تھا جس نے سورج کی روشنی روک کر زمین کے موسم کو شدید متاثر کیا۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ زمین کی تاریخ کا یہ واقعہ غیرمعمولی تھا کیونکہ زمین سے ٹکرانے والا شہابیہ دنیا کے نایاب ترین شہابی پتھروں میں سے ایک تھا۔