ارجنٹائن کے 3 فٹبالرز، لیساندرو مارٹینیز، کرسٹیان رومیرو اور اینزو فرنانڈیز کو فاکلینڈز (مالویناس) سے متعلق متنازع بینر اٹھانے کے بعد برطانیہ میں اپنے ورک ویزوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کامیابی کے بعد ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے ’فاکلینڈ جزائر ارجنٹائن کے ہیں‘ لکھا بینر اٹھایا تھا جس پر برطانیہ میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
کئی برطانوی سیاست دانوں نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ کھیل میں سیاست شامل کرنے پر ارجنٹائن کے خلاف کارروائی کی جائے۔
فیفا نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے تاہم تاحال کوئی باضابطہ پابندی عائد نہیں کی گئی۔
سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے سابق معاون نائل گارڈینر نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس بینر میں شریک تمام ارجنٹائن کے پریمیئر لیگ کھلاڑیوں کے برطانوی ورک ویزے منسوخ کر دیے جائیں۔
بعض برطانوی شائقین نے بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے ایک امیگریشن ماہر کا کہنا ہے کہ صرف یہ بینر اٹھانے کی بنیاد پر ان کھلاڑیوں کے ویزے منسوخ کرنا قانونی طور پر انتہائی مشکل ہوگا۔
ارجنٹائن کے یہ 3 کھلاڑی اس وقت انگلش پریمیئر لیگ کے مختلف کلبوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جن میں مانچسٹر یونائیٹڈ، چیلسی اور ٹوٹنہم شامل ہیں۔