• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوپہر کے کھانے کے بجائے صرف سلاد کھانے کے صحت پر حیران کن فوائد

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ہارمونز کی خرابی کے عارضے میں مبتلا ایک انفلوئنسر نے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے لیے مسلسل 2 ماہ تک روزانہ دوپہر کے کھانے میں سلاد کھانے کا معمول بنایا اور بعدازاں اس کے نتائج سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔

بھارتی انفلوئنسر کا کہنا ہے کہ میرا مقصد تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی عادت اپنانا تھا جس پر مستقل عمل کیا جا سکے۔

خاتون انفلوئنسر کے مطابق ان کا سلاد صرف پتوں والی سبزیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، چنے، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم سمیت مختلف غذائیں شامل ہوتی تھیں۔ 

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں یا سرکہ استعمال کیا جاتا تھا جبکہ پروٹین کے لیے عموماً گرل کیا ہوا پنیر یا سویا شامل کیا جاتا تھا۔

خاتون انفلوئنسر نے بتایا کہ ایک ہی قسم کا سلاد تقریباً 20 دن تک کھانے کے بعد مجھے اکتاہٹ محسوس ہوئی جس کے بعد میں نے مختلف اجزاء اور ذائقے شامل کر کے اس معمول کو دلچسپ بنایا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ میں یقین سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ میرا وزن کم ہوا کیونکہ پی ایم او ایس کے باعث وزن میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے تاہم میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ میری بھوک کم ہو گئی، غیر ضروری کھانے کی خواہش ختم ہوئی اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرا رہنے لگا۔

ان کے مطابق دوپہر کے کھانے کے بعد سستی بھی کم ہوگئی، توانائی میں اضافہ ہوا، جسم پہلے سے زیادہ متناسب محسوس ہونے لگا اور کپڑوں کی فٹنگ میں بھی فرق آیا، اگرچہ یہ تبدیلیاں بتدریج سامنے آئیں۔

خاتون نے کہا کہ مسلسل صحت مند غذاؤں کا انتخاب کرنے سے میرے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا اور یہی احساس مجھے اس معمول پر قائم رکھنے کی بڑی وجہ بنا۔

خاتون انفلوئنسر نے واضح کیا ہے کہ میں اب بھی کبھی کبھار پیزا، روٹی، سبزی یا رائتہ شوق سے کھاتی ہوں، اب میں ان غذاؤں کو بطور ’چیٹ میل‘ نہیں لیتی، میرے نزدیک صحت مند طرزِ زندگی میں اعتدال اور توازن برقرار رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید