• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئندہ بجٹ 2026-27ءپر مشاورت کیلئے آئی ایم ایف کے 11رکنی وفد، جس میں مالی پالیسی، ٹیکسیشن، انرجی ریفارمز اور گورننس کے ماہرین شامل تھے، نے حال ہی میں Iva Petrova کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان میں قیام کے دوران وفد نے اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، وزارت خزانہ، ایف پی سی سی آئی اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

وفد نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے حکومت کو 11نئی شرائط اور اہداف دیئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنیوالا بجٹ ایک سخت آئی ایم ایف بجٹ ہوگا۔رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال 2026-27ءکیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15267ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ آئندہ مالی سال 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے جانے کی تجویز ہے۔

آئندہ بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1727ارب روپے وصول کئے جانے کا امکان ہے جو سب سے بڑا نان ٹیکس ذریعہ ہوگا۔ آئی ایم ایف نے پیٹرول پر 80روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائدکی تھی مگر حکومت پیٹرول پر 117 روپے فی لیٹر لیو ی وصول کررہی ہے اور اس طرح رواں مالی سال کے 10 ماہ میں حکومت نے صارفین پر اضافی بوجھ ڈال کر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 13400 ارب روپے جمع کرلئے ہیں جو ہدف سے زائد ہیں۔ ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ حکومت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے اپنا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس کے باوجود رواں مالی سال کے 10 مہینوں کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی مجموعی ریونیو ہدف سے 684 ارب روپے کم رہی۔

آئی ایم ایف کی 11نئی شرائط میں اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) میں دی جانے والی ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر مراعات کا 2035ءتک مکمل خاتمہ، توانائی کے شعبے میں گیس اور بجلی کے ٹیرف کا ہر 6ماہ بعد جائزہ، نیب میں اصلاحات اور بجٹ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو سے منظور کروانا شامل ہے۔ آئی ایم ایف حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ زراعت اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اس وقت ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے توانائی کے شعبے کا سرکولر ڈیٹ ریکارڈ 5206ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس میں گیس کے 3442ارب روپے اور بجلی کے شعبے کے 1764ارب روپے کے گردشی قرضے شامل ہیں جس پر آئی ایم ایف کو تشویش ہے۔ خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے (SOEs) اور ڈسکوز کی نجکاری، گردشی قرضوں میں کمی، مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4فیصد ، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2فیصد ، سخت مانیٹری پالیسی اپنانے ، آئی پی پیز کے واجبات کی ادائیگی، ایف بی آر کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا، حکومتی ملازمین کے پنشن فنڈز میں مسلسل اضافہ اور حکومتی سبسڈی ختم کرنے کے مطالبےبھی آئی ایم ایف کی کلیدی شرائط میں شامل ہیں۔

رواں مالی سال 2025-26ءکے پہلے 10 مہینے میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 33.86 ارب ڈالر رہیں۔ آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں بھی 20فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو بڑھ کر 3.4ارب ڈالر ہوگئیں اور تیل کی قیمتیں اور امپورٹ بل بڑھنے کے باوجود 1.1ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا جسکی وجہ سے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہے۔

اسی دوران حکومت نے پہلے مرحلے میں 2.5 فیصد شرح سود پر 250ملین ڈالرز کے پانڈا بانڈز کا چین کی بانڈز مارکیٹ میں کامیاب اجرا کیا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو نے حال ہی میں خصوصی اکنامک زون (SEZs)، فور کلوژر قانون، پارلیمنٹرین بجٹ آفس (PBO) اور قرضوں کے زیادہ سے زیادہ حد کے قانون (FRDLA)تفصیلی بحث کے بعد منظور کئے ہیں جو آئی ایم ایف کا مطالبہ بھی تھا۔ قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کو آج وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب بجٹ پر ایک تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

کمیٹی کی کوشش ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ناقابل برداشت ٹیکسز، کارپوریٹ ٹیکس اور سپر ٹیکس میں کمی کی جائے تاکہ ملک میں نئی سرمایہ کاری لائی جاسکے لیکن آئی ایم ایف اسے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور متبادل ریونیو کے حصول سے مشروط کررہی ہے۔

وزیراعظم ٹاسک فورس نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے فروغ کیلئے کچھ اقدامات کئے ہیں جس میں جائیداد کی ٹرانسفر میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ، ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، اسلام آباد میں اسٹیمپ ڈیوٹی میں کمی اور مارگیج فنانسنگ کی اسکیم متعارف کرائی ہیں جس سے امید ہے کہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی آئے گی۔ بہرحالآئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کی وجہ سے آئندہ ایک سخت بجٹ متوقع ہے۔

تازہ ترین