ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
خبر ایجنسی نے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید نوعیت کے زخم آئے تھے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل عرب میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ملک میں موجود نہیں، وہ تاحال عوام سے دور ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے نے ایک نامعلوم اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہادت کے بعد منصب سنبھالنے والے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب تک کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے اور صرف تحریری بیانات جاری کیے ہیں۔
اسرائیلی ذریعے نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ان بیانات کی تیاری پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ احمد وحیدی اور دیگر اعلیٰ حکام کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں صنعت و کان کنی کے قومی دن کی تقریب سے خطاب میں مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا نے جب یہ دیکھا کہ مذاکرات میں ایران کو ’توقعات سے بڑھ کر‘ کامیابیاں ملی تو اس نے مفاہمت کی یادداشت کے اپنے وعدوں کو توڑ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا بنیادی نکتہ آبنائے ہُرمُز کھولنا تھا۔ معاہدے کے نتیجے میں ایران نے مختصر مدت میں معاملات کو سنبھال لیا۔ یہ دیکھ کر امریکا نے دوبارہ جنگ شروع کردی۔
اس سے قبل ایرانی سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ ایران کی جنگ دو محاذوں پر ہے۔ ایک میزائلوں اور بموں کا محاذ جب کہ دوسرا معیشت کا محاذ ہے، کیونکہ دشمن جان چکا ہے کہ وہ صرف فوجی طاقت سے ایرانی قوم کو جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔