خلیل الحیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں۔
اکتوبر 2024ء میں سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس کے امور 5 رکنی قیادتی کونسل کے ذریعے چلائے جا رہے تھے، جس میں خلیل الحیہ بھی شامل تھے۔
اس ہفتے ہونے والے قیادت کے انتخاب میں ان کے مدمقابل حماس کے سابق سیاسی بیورو چیف خالد مشعل تھے۔ خلیل الحیہ نے 69 میں سے 35 ووٹ حاصل کر کے صرف ایک ووٹ کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق ان کے انتخاب کے بعد امریکا کے لیے حماس کے اندر ایک واضح قیادت سے رابطہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
عملیت پسند رہنما سمجھے جانے والے خلیل الحیہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ سے متعلق مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہے تھے۔
اگرچہ انہیں ایران کے قریب تصور کیا جاتا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ قائم ہونے والے روابط مستقبل میں غزہ سے متعلق امریکی سرپرستی میں مزید مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ای سی ایف آر) کے وزٹنگ فیلو، غزہ سے تعلق رکھنے والے محقق اور انسانی حقوق کے کارکن محمد شہادہ کے مطابق خلیل الحیہ کو ایرانی طرز کے محورِ مزاحمت کا فطری حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے میں بھی اتنے ہی آسودہ ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اسٹیو وٹکوف براہِ راست خلیل الحیہ سے مذاکرات کے خواہاں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے اندر خلیل الحیہ کو 4 شہداء کے والد کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان سانحات نے خلیل الحیہ اور اسٹیو وٹکوف کے درمیان ایک ذاتی تعلق بھی پیدا کیا، کیونکہ وٹکوف کا اپنا بیٹا 2011ء میں 22 برس کی عمر میں انتقال کر گیا تھا۔
محمد شہادہ کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے ایک پروگرام میں اس حوالے سے کہا تھا کہ ہم نے ان (خلیل الحیہ) کے بیٹے کی وفات پر اظہارِ تعزیت کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی اپنا بیٹا کھو چکا ہوں اور ہم دونوں اس دردناک حلقے کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو دفن کیا ہے۔
غزہ میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یحییٰ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد تنظیم کے اندر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا۔ گزشتہ سال دوحہ میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں بھی خلیل الحیہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ای سی ایف آر کے سینئر پالیسی فیلو ہیو لووٹ کے مطابق خلیل الحیہ کا انتخاب حماس کے داخلی ڈھانچے میں کسی بنیادی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ وہ درحقیقت تسلسل کی علامت ہیں۔ وہ یحییٰ السنوار کے دور میں غزہ میں نائب سربراہ تھے اور کافی عرصے سے اعلیٰ قیادت کا حصہ رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں سخت گیر اور ایران کے قریب قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں باتوں کو مناسب تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
ایران سے تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تنظیم میں ایران کے زیادہ پرجوش حامی بھی موجود ہیں، جبکہ حماس ہمیشہ عرب ممالک اور تہران کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اس وقت ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ حماس مکمل طور پر ایران کے زیرِ اثر آ جائے گی۔
اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی اور تقریباً 72 ہزار فلسطینیوں کی اموات کے باوجود حماس نے علاقے میں اپنی انتظامی موجودگی برقرار رکھی ہے، جہاں خلیل الحیہ کو خاص اثر و رسوخ رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ مسلسل اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حماس کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم تنظیم اب بھی غزہ میں صحت کی بنیادی سہولتیں، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور بعض شہری انتظامی امور کی نگرانی کر رہی ہے۔
قطر میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر خالد الحروب کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کی تقرری دو واضح پیغامات دیتی ہے۔ پہلا یہ کہ حماس کا داخلی ڈھانچہ اور فیصلہ سازی کا نظام شدید حالات اور اپنی سیاسی و عسکری قیادت کے بڑے حصے کی شہادت کے باوجود فعال ہے۔ دوسرا یہ کہ غزہ اب بھی تنظیم کی فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ تنظیم زیادہ سخت گیر پالیسی اختیار کرے گی لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ غزہ اب بھی اس کی اولین ترجیح ہے۔