مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی دوڑ میں اگرچہ امریکا جدید ترین چپس اور سیمی کنڈکٹرز میں سبقت رکھتا ہے، لیکن ایک ایسا شعبہ بھی ہے جہاں چین واضح برتری حاصل کر چکا ہے اور وہ ہے سستی اور وافر بجلی۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کو چلانے کے لیے دیوہیکل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں، جو بے پناہ مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں، ایک عام ڈیٹا سینٹر تقریباً 1 لاکھ گھروں جتنی بجلی خرچ کرتا ہے، جبکہ جدید ہائپر اسکیل مراکز 20 لاکھ گھروں کے برابر توانائی استعمال کر سکتے ہیں۔
چین اس وقت امریکا کے مقابلے میں دگنے سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے، جبکہ آئندہ 5 برسوں میں یہ فرق مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
تحقیقاتی ادارے بلومبرگ این ای ایف کے مطابق چین اگلے چند برسوں میں امریکا سے 6 گنا زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اس اضافی توانائی کا بڑا حصہ سولر اور ونڈ پاور سے حاصل کر رہا ہے، صرف 2025ء میں چین نے 430 گیگا واٹ سے زائد شمسی اور ہوائی توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو دنیا بھر میں شامل ہونے والی نئی قابلِ تجدید توانائی کا نصف سے زیادہ بنتا ہے۔
چین کی حکومت نے ایسٹ ڈیٹا، ویسٹ کمپیوٹنگ منصوبے کے تحت نئے ڈیٹا سینٹرز ملک کے مغربی اور کم آبادی والے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں، جہاں زمین سستی ہے اور قابلِ تجدید توانائی زیادہ دستیاب ہے۔
اسی منصوبے کے تحت حال ہی میں شمال مغربی علاقے ننگشیا میں 500 میگا واٹ کے پہلے بڑے ونڈ اور سولر پراجیکٹ کا افتتاح کیا گیا، جو براہِ راست ایک کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کی اصل جنگ صرف چپس کی نہیں بلکہ بجلی کی بھی ہو گی۔
چین اگرچہ جدید ترین چپس تک محدود رسائی رکھتا ہے، تاہم اس نے اپنی مقامی کمپنیوں ہواوے اور سیمی کنڈکٹر کمپنی ایس ایم آئی سی کے ذریعے متبادل نظام تیزی سے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی مانگ بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی پاور گرڈ کی محدود صلاحیت کے باعث 2025ء کے آخر میں نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی۔
امریکی ٹیکنالوجی شخصیات ایلون مسک، سیم آلٹمین اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ بھی کھلے عام تسلیم کر چکے ہیں کہ چین توانائی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کے پاس جدید چپس ہیں مگر توانائی کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ چین کے پاس وافر بجلی موجود ہے لیکن وہ اب بھی جدید چپس کی دوڑ میں پیچھے ہے۔