کراچی شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار پرہر ذی شعور شخص کو شدید تشویش ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں چرس، افیم ، آئس ، ہیروئن ، شراب، گٹکا، ماوا، ممنوعہ چھالیہ اور پڑیوں کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جس سے نو جوان نسل تیزی سے تباہی کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔ یہ مکروہ دھندا مبینہ طور پر بعض با اثر عناصر اور پولیس کی سر پرستی میں جاری ہے۔ کراچی کے تعلیمی اداروں ،گلی محلوں اور عوامی مقامات پر منشیات کی آسان دستیابی لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔ گٹکا ،ماوا اور ممنوعہ چھالیہ نے نو جوانوں اور کم عمر بچوں کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ آئس اور ہیروئن جیسے خطر ناک نشے جرائم کی بڑی وجہ بنتے جا رہے ہیں اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کئے گئے تو کراچی کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔ حکومت سندھ، محکمہ داخلہ، آئی جی سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے گزارش ہے کہ شہر بھر میں منشیات فروشوں ، انکے سہولت کاروں اور سر پرستی کرنیوالے عناصر کیخلاف بلا امتیاز آپریشن کیا جائے۔ کراچی کے عوام خصوصاََ والدین شدید خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ منشیات فروش عناصر نو جوان نسل کو دانستہ تباہ کر رہے ہیں ۔ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بنیں، اسی لئے تعلیمی اداروں میں ویپ، کرسٹل آئس، ہیروئن اور چرس جیسے خطرناک منشیات کی ترسیل کو بڑھایا جا رہا ہے پاکستان کی64فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں منشیات جیسے ناسور سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔اب تو ہر ذی ہوش فرد اس بات سے باخبر ہو چکا ہے کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی کے دوران ہمارے یہاں منشیات کے استعمال اور اس کے کاروبار کے باعث جو صورتحال پیدا ہوئی ہے ، وہ ہمارے معاشرے کیلئے تباہ کن بن چکی ہے اور ہماری نوجوان نسل کیلئے ایسے پیچیدہ و نفسیاتی امراض کا ذریعہ بن گئی ہے، جس سے نشہ باز کیساتھ ساتھ اسکے خاندان کے افراد کی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں۔ صورتحال یہاں تک جا چکی ہے کہ آج ہزاروں گھرانے تباہی اور بربادی کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں، ہر سو اخلاقی بے راہ روی بڑھ گئی ہے کئی نشے باز ، نشے میں دھت ہو کر مر رہے ہیں۔کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل تیزی سے منشیات کے اندھیروں میں دھکیلی جا رہی ہے۔ گلی،محلوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور بعض اوقات کھلے عام ایسے زہریلے کاروبار جاری ہیں جونوجوانوںکے مستقبل کو نگل رہے ہیں۔ خصوصا آئس جیسے خطر ناک نشے نے معاشرے میں خاموش تباہی مچارکھی ہے۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کی زندگی، صحت ،کردار اور مستقبل کو بر باد کرنیوالا زہر ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نو جوان وقتی خوشی ، ذہنی سکون، فیشن یا دوستوں کی صحبت میں اس مہلک نشے کی طرف راغب ہور ہے ہیں، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ آئس کا ایک استعمال انہیں آہستہ آہستہ موت، پاگل پن، جرائم اور تباہی کی طرف لیجاتا ہے۔ یہ نشہ انسان کے دماغ ، اعصاب اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ چند سال پہلے تک چرس، شراب اور گٹکا جیسے نشے عام تھے، مگر اب آئس نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لیکر صورتحال کو مزید خطر ناک بنادیا ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیکل زہر ہے جو نو جوانوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی کھو کھلا کر رہا ہے۔ کئی نو جوان اس لت کے باعث تعلیم چھوڑ رہے ہیں، گھریلو جھگڑوں میںمبتلا ہور ہے ہیں اور جرائم کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ بیروزگاری، مہنگائی اوربڑھتا ہواذہنی دباؤ بھی اس مسئلے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ نوجوان جب تعلیم مکمل کرنے کے با وجود روزگار حاصل نہیں کر پاتے تو مایوسی اور احساس محرومی ان پر حاوی ہو جاتا ہے۔ یہی کمزوری بعض اوقات انہیں غلط دوستوں اور منشیات فروشوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔ وقتی سکون کی تلاش میں اٹھایا گیا ایک غلط قدم پوری زندگی تباہ کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا، فلموں اور بعض ڈراموں میں بھی نشے کو فیشن اور اسٹیٹس کی علامت بنا کر پیش کیا جارہا ہے، جس سے کم عمر نوجوان تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین کی غفلت بھی اس بڑھتے ہوئے ناسور کی ایک اہم وجہ ہے۔ مصروفیات اور معاشی پریشانیوں کے باعث بعض والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں ، دوستوں اور روز مرہ معمولات پر توجہ نہیںدے پاتے۔ اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں اور ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ آئس کا نشہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے عادی افراد اکثرذہنی بیماری،غصے ، تشدد اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ منشیات بن چکی ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کئی علاقوں میں منشیات فروش کھلے عام نوجوان نسل کا مستقبل بیچ رہے ہیں، مگر قانون پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ اب وقت آچکا ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، والدین ،اساتذہ،علما اور پورا معاشرہ اس ناسور کیخلاف متحدہ ہو جائے۔نو جوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیداکئے جائیں، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائی جائے اور منشیات فروشوں کیخلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے۔ اگر آج ہم نے اپنی نو جوان نسل کو اس تباہی سے نہ بچایا تو کل ایک بیمار، راہرو اور جرائم زدہ معاشرہ ہمارا مقدر بن جائیگا۔ اپنےمستقبل کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب ملکر منشیات اور آئس جیسے زہریلے ناسور کے خلاف عملی جنگ لڑیں۔