چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ کو لکھے گئے خط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی گلگت بلتستان کے انتخابات میں مداخلت مناسب نہیں اور ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ تمام سیاسی جماعتیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، آج گورنر پنجاب اور وزراء بھی گلگت آئے تاہم کسی صورت انتخابی مہم میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق دو روز قبل خیبر پختونخوا کے وزراء نے بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی، ایک امیدوار نے کے پی کے عوام کو اُکسانے کی کوشش کی جو کہ جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 154 اے کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔
راجہ شہباز خان کا کہنا تھا کہ قانون کسی بھی پارٹی کے وزراء کو گلگت بلتستان آ کر انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے مانیٹرنگ افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ آج کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی امیدوار کو نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔