امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امور سلطنت کے باعث اپنے بڑے بیٹے کی شادی میں شرکت نہ کرپائے تو مجھے سرزمین فارس کے فرمانروانادر شاہ یاد آگئے۔شاید آپ کو اس تال میل پر حیرت ہورہی ہومگر تکلف برطرف ،جوع الارض قدرِ مشترک ہے ۔نادرقلی بیگ جو ڈاکوؤں کے گروہ کی قیادت کرتے ہوئے عنان اقتدار پر قابض ہوئے ،ان کا عہد لوٹ مار سے ہی عبارت رہا۔مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں نادر شاہ ایرانی نے جس طرح دہلی کو تاراج کیا ،تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔21مارچ1739ء کو ہفتے کا دن تھا،نمازعیدالاضحیٰ کے دوران نادر شاہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔اب خراج وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔مورخین کے مطابق ایک ماہ تک لوٹ مار کے ذریعے ہتھیائے گئے زیورات اور سونے کے برتنوں کو پگھلا کر اینٹوں میں ڈھالنے کا سلسلہ جاری رہا تاکہ انہیں منتقل کرنے میں آسانی ہو۔مشہورِ زمانہ کوہ نور ہیرے کے علاوہ جو مال و دولت اس وقت ایران منتقل ہوا،آج کے دور میں ا س کا تخمینہ 156ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔لوٹ مار کے علاوہ نادر شاہ ایرانی نے اپنے سپاہیوں کو قتل ِعام اور مقامی خواتین کی آبروریزی کی کھلی چھٹی دیدی۔دہلی کا لاہوری دروازہ،فیض بازار،کابلی دروازہ اور دیگر علاقے لاشوں سے اٹ گئے۔بعدازاں جھوٹی روایات کے ذریعے نادرشاہ کو پرلے درجے کا احمق ثابت کرکے اس عبرتناک شکست کا بدلہ لیا گیا۔ہمارے عہد کے ایک بڑے مزاح نگار شفیق الرحمان نے ’’تزکِ نادری‘‘ میں نادر شاہ کا جی بھر کے مذاق اڑایا اور دیگر سخن وروں نے بھی حسب توفیق بھرپور طبع آزمائی کی ۔یہی نہیں بلکہ ’’نادر شاہی‘‘ کی اصطلاح بھی متعارف کروائی گئی جس پر پہلے انہی صفحات پر کالم لکھ چکا ہوں۔آج بھی جب کوئی عجیب و غریب قسم کا حکم آتا ہے تو ہم جھلا کر کہتے ہیں،یہ کیسا نادر شاہی حکم ہے۔اس اصطلاح کا پس منظر یہ ہے کہ جب نادر شاہ دُرانی نے ہندوستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ اس حملے کا جواز پیش کریں ایک مشیرنے کہا،حضور! ہم کہہ دیں گے کہ بھائی پھیرو میں نادر شاہ کی پھوپھی جان رہتی ہیں،ہم تو ان سے ملنے آئے تھے ورنہ حملے کی نیت نہ تھی۔دوسرے نے یہ تاویل پیش کی کہ سب نے ہندوستان پر حملہ کیا مگر ہم نے نہیں کیا اس کے بعد کسی اور جواز کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ تیسرے نے کہا،باشاہ سلامت! اتنا عرصہ ہوا ہندوستان پر کوئی حملہ نہیں ہوا،کیا یہ وجہ کافی نہیں۔
تو جناب عصر حاضر کے نادر شاہ قبلہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی لاطینی امریکہ کے ایک اہم ملک کیوبا پر حملے کا جواز تلاش کررہے ہیں۔امریکہ کی ناک کے نیچے وینزویلا ،کیوبا اور نکاراگوا تین ایسے ممالک ہیں جنہوں نے اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر امریکہ جیسی عالمی طاقت کو ناکوں چنے چبوائے۔ امریکہ کو للکارنے والے ہیوگو شاویز کے جانشین صدر کو ان کی اہلیہ سمیت کس طرح اغوا کرکے لے جایا گیا ،وہ ناپسندیدہ مناظر تو آپ سب نے دیکھ لئے ،اب اسی طرز کی کارروائی فیڈل کاسترو کے دیس کیوبا کے خلاف ہونے کو ہے ۔امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے 2018ء میں ان تینوں ممالک یعنی نکارا گوا،وینزویلا اور کیوبا کو’’ Troika of Tyranny‘‘قرار دیا تھا۔نکارا گوا میں سی آئی اے نے کئی بار رجیم چینج کے ذریعے ناپسندیدہ حکمرانوں کو ختم کیا ۔جب وہاں جنرل سموزا کو سنگھاسن پر بٹھایا گیا تو کسی صحافی نے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے سوال کیا اور نکارا گوا کے ڈکٹیٹر جنرل سموزا کے ظلم وجبر کی نشاندہی کی تو امریکی صدر نے کہاـ:’’جنرل سموزا کمینہ ہوگا مگر وہ ہمارا کمینہ ہے َ‘‘۔اسی طرح فیڈل کاسترو جنہیں کیوبا پر طویل ترین حکمرانی کا اعزاز حاصل ہے ،انہیں راستے سے ہٹانے کے لئےامریکی خفیہ اداروں نے Operation Mongooseسمیت کئی طرح کے منصوبے بنائے لیکن کامیابی نہ ملی اور فیڈل کاسترو آہنی گرفت کے ساتھ حکومت کرتے رہے ۔گنے ،سگار اور کافی کی پیداوار کے لئے مشہور کیوبا ایک دور میں دنیا بھر کی چینی کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصہ پیداکرنے کے قابل ہوگیا تھا۔2004ء میں فیڈل کاسترو کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔بعد ازاں جولائی 2006ء میں اپنی 80ویں سالگرہ سے چند روز قبل انہوں نے اپنے اختیارات چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو سونپ دیئے۔25نومبر 2016ء کو فیڈل کاسترو 90برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔
ابھی امریکہ اور ایران کا کھڑاک ختم نہیں ہوا مگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور محاذ کھول کر اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کے منصوبے بنارہے ہیں ۔ارادہ یہ ہے کہ جس طرح وینز ویلا میں خفیہ کارروائی کرکے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت اغوا کرکے لے جایا گیا ،اسی طرح کا فوجی آپریشن کیوبا میں کیا جائے تاکہ امریکہ کی دہشت اور خوف برقرار رہے ۔ہیوگوشاویز نے تو اپنی اولاد یا اہلخانہ کو سیاسی وارث نہیں بنایا اس لئے نکولس مادورو کو اغوا کیا گیا مگر کیوبا میں صورتحال مختلف ہے۔اگر فیڈل کاسترو زندہ ہوتے تو یقینا ،انہیں نشان عبرت بنایا جاتا مگر اب ان کے بھائی اورسابق صدر راؤل کاسترو کو اُٹھاکر امریکہ لانے کا منصوبہ ہے۔اس کیلئے کئی ماہ سے پرانی فائلیں ڈھونڈ کر جواز تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور خاصی تگ و تاز کے بعد ایک پھندہ تیار کیا گیا ہے۔کیوبا سے امریکہ جاکر آباد ہونے والوں کی نمائندہ تنظیم ’’برادرز آف ریسکیو ‘‘فیڈل کاسترو کے خلاف سازشیں کرتی رہتی تھی ،ان کی حکومت کے خلاف جہازوں سے پمفلٹ گرائے جاتے تھے ۔24فروری1996ء کو ایسے ہی دو چھوٹے جہازوں کو کیوبا نے مارگرایا جس سے چار لوگ مارے گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ سرکار نے اس 30برس پرانے مقدمے کو دوبارہ کھولنے اور فیڈل کاسترو کے بھائی راؤل کاسترو کا ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں سی آئی اے کے سربراہ جان ریڈ کلف نے ہوانا میں کیوبا کے حکام سے ملاقات کی جس میں راؤل کاسترو کے پوتے بھی موجودتھے۔حکمت عملی یہی ہے کہ کیوبا کی حکومت اس مقدمےمیں راؤل کاسترو کو امریکہ کے حوالے نہیں کرتی تو خفیہ آپریشن کے ذریعے انہیں اغوا کرکے لایا جائے۔ویسے اس قدر تردد کی ضرورت ہی نہیں تھی اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قابل مشیر ہوتے تو محض یہی جواز کافی تھا کہ چونکہ امریکی صدر اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت نہیں کرپائے لہٰذا کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کو اٹھا کر امریکہ لایا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔