پاکستان کے دیہی معاشرے میں زمین صرف ایک جائیداد نہیں بلکہ عزت، روزگار، شناخت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے زمین کی ملکیت، تقسیم اور اس کی منتقلی کے معاملات ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ بدقسمتی سے برصغیر سے ورثے میں ملنے والا پٹواری نظام طویل عرصے سے تنازعات، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عام کسانوں کی شکایات کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اصلاحات، کمپیوٹرائزیشن اور قانونی تبدیلیوں کے ذریعے اس نظام کو شفاف بنانے کی کوشش کی، لیکن عوامی سطح پر یہ تاثر اب بھی موجود ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ اور انتقالات کے معاملات میں بدعنوان عناصر اثر و رسوخ استعمال کرکے غریب اور کمزور لوگوں کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
موجودہ پٹواری نظام کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں ملتی ہیں۔ انگریز حکومت نے زمین سے محصول وصول کرنے، دیہی آبادی کو کنٹرول کرنے اور مقامی طاقتور طبقات کے ذریعے انتظامی امور چلانے کے لیے ایک ایسا ڈھانچہ قائم کیا جس میں پٹواری، تحصیلدار، پولیس اور عدالتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
اس نظام کا بنیادی مقصد عوامی فلاح سے زیادہ ریاستی کنٹرول اور محصولات کی وصولی تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی اشرافیہ، بڑے زمینداروں اور مقامی بااثر افراد نے اسی انتظامی ڈھانچے کے اندر اپنی طاقت کو مزید مضبوط کیا۔ ناقدین کے مطابق آزادی کے بعد بھی اس نظام کی بنیادی ساخت میں وہ انقلابی تبدیلیاں نہیں آ سکیں جو ایک جدید، شفاف اور عوام دوست نظام کیلئے ضروری تھیں۔
زمین کے ریکارڈ، کھاتہ جات، فرد ملکیت یا دیگر دستاویزات میں غلط اندراجات یا مبینہ ردوبدل اکثر تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ پٹواریوں کے بارے میں کہا جاتا کہ یہ ادارہ مافیاء کی شکل اختیار کرچکا ہے جو قبضہ گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے فرد ملکیت میں رد و بدل کرکے دستاویزات کو مشکوک اور متنازعہ بنا دیتا ہے ایسی کئی مثالیں متاثرین کے پاس موجود ہیں- جبکہ پورے ملک بشمول وفاقی دارالحکومت میں دیہی علاقوں ٹرانسفر کے نام پر ناقابل یقین حد تک رشوت وصول کی جاتی ہے لیکن اس کرپشن کے خلاف ایکشن لینے کے مختار حکام صرف ان حالات کا نظارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کبھی کبھار ایسے الزامات بھی سامنے آتے ہیں کہ جعلی شناخت، فرضی گواہوں یا جعلی دستاویزات کے ذریعے زمین کی منتقلی کا اندراج کروا لیا جاتا ہے۔ متاثرہ افراد کو اکثر اس وقت معلوم ہوتا ہے جب زمین فروخت ہو چکی ہوتی ہے یا کسی اور کے قبضے میں جا چکی ہوتی ہے-بعض علاقوں میں خواتین، یتیموں یا بیرون ملک مقیم وارثوں کے حصے کو نظر انداز کرنے یا ان کے نام ریکارڈ میں شامل نہ کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے معاملات اکثر برسوں تک عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں۔قومی اور مقامی سیاسی شخصیات، بڑے زمیندار یا سرمایہ دار اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے انتظامی عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کرپٹ عناصر کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔کمزور کسان یا چھوٹے مالکان مالی وسائل اور سیاسی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق کے دفاع میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ انتقال، فرد، تصدیق یا ریکارڈ کی درستگی جیسے کاموں میں غیر ضروری تاخیر پیدا کرکے شہریوں کو رشوت دینے پر مجبور کرنے کی شکایات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔اسی پس منظر میں “تھانہ کلچر” اور “کچہری کلچر” جیسی اصطلاحات وجود میں آئیں، جن سے مراد وہ ماحول ہے جہاں عام شہری خود کو طاقتور افراد اور پیچیدہ بیوروکریسی کے سامنے بے بس محسوس کرتا ہے۔پاکستان میں مختلف حکومتوں نے زمینوں کے ریکارڈ کو جدید بنانے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر زمینوں کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، سروس سینٹرز، آن لائن فرد کے اجرا، بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل رجسٹریشن جیسے اقدامات متعارف کروائے گئے۔ ان اصلاحات کا مقصد انسانی مداخلت کم کرنا اور شفافیت بڑھانا تھا۔ تاہم اصلاحات کو کئی مشکلات کا سامنا رہا-اصل مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کا ہے جو دہائیوں سے قائم ہے۔ جب تک احتساب، شفافیت، ڈیجیٹل ریکارڈ، آزاد نگرانی اور فوری انصاف کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، اصلاحات کے نتائج محدود رہیں گے۔ پٹواری نظام پر تنقید دراصل صرف ایک عہدے یا چند افراد پر تنقید نہیں بلکہ اس پورے انتظامی ڈھانچے پر سوال ہے جو نوآبادیاتی دور سے چلا آ رہا ہے۔ جب زمین کے ریکارڈ، پولیس، بیوروکریسی اور عدالتی کارروائیاں عام آدمی کے لیے پیچیدہ اور مہنگی ہو جائیں تو طاقتور طبقے بے حیثیت لوگوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ کمزور طبقہ نقصان اٹھاتا ہے۔
حقیقی اصلاحات صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ ان پر غیر جانبدارانہ عمل درآمد، شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی تبدیلیوں سے ممکن ہیں۔ جب تک زمین کے مالک کو اپنے حق کے تحفظ کے لیے برسوں دفاتر، تھانوں اور عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں گے، تب تک دیہی پاکستان میں انصاف کا سوال پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا۔