ایک نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فلٹر کافی پینے والے افراد میں جسمانی و بائیولوجیکل عمر کے تیزی سے بڑھنے کے امکانات کم ہوتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں انسٹنٹ کافی پینے والے افراد میں بائیولوجیکل عمر میں اضافے کی رفتار کچھ تیز دیکھی گئی۔
طبی جریدے این پی جے سائنس آف فوڈ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 56 سال کی اوسط عمر کے تقریباً 49 ہزار 414 بالغ افراد کے صحت سے متعلق ڈیٹا اور ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ کافی کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی، اس کا اثر اتنا ہی واضح نظر آئے گا۔ روزانہ 3 کپ سے زیادہ فلٹر کافی پینے والے افراد میں عمر رسیدہ ہونے کا عمل سب سے زیادہ سست دیکھا گیا۔
انسٹنٹ کافی اور بائیولوجیکل عمر میں تیز رفتاری کا تعلق خصوصاً بڑی عمر کے افراد، مردوں اور سگریٹ نوشی کرنے والوں میں زیادہ نمایاں نظر آیا۔
سائنسدانوں کے مطابق فلٹر کافی میں ’کلوروجینک ایسڈ‘ جیسے مفید مرکبات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جسم کی سوزش کو کم کرنے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
محققین نے واضح کیا کہ انسٹنٹ کافی سے بائیولوجیکل عمر میں اضافہ انتہائی معمولی ہوتا ہے، جو انفرادی سطح پر تو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچاتا لیکن عوامی صحت کے عالمی تناظر میں یہ ایک اہم انکشاف ہے۔
ماہرین نے یہ بھی یاد دہانی کروائی کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے کافی کی قسم اور عمر کے اثرات کے درمیان دیگر لائف اسٹائل اور مالی عوامل بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی خبر ہے، اپنی کسی بھی بیاری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔