میاں نوازشریف عرف ’’بائوجی‘‘ برسہا برس کی گوشہ نشینی کے بعد گلگت میں جلوہ افروز ہوئے تو عوام سے گلہ کرتے ہوئے کہا، شاید آپ نے مجھے بھلا دیا ہے۔ نوازشریف نے ایک بار پھر ہلکے سروں میں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کا راگ چھیڑتے ہوئے یہ شکوہ بھی کیا کہ قصور آپ کا بھی ہے ،آپ نے مجھ جیسے بندے کا دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ کیوں جیلوں میں ڈالا گیا؟ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن...اور پھر راگ جھنجھوٹی کی تان پر دیامر بھاشا ڈیم کا ذکر چھیڑ دیا، کہنے لگے، ایک بابا ڈیم ہوا کرتا تھا، کہتا تھا میں ریٹائر ہوکر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جائونگا۔ میں نے اسے تلاش کرنے کیلئے دو تین بندے بھیجے مگر اس کا سراغ نہیں ملا۔ نہایت قابل احترام دوست مشاہداللہ خان، عرفان صدیقی اور صدیق الفاروق حیات ہوتے تو میں یہ’’جواب شکوہ ‘‘انکے ذریعے ’’بائو جی‘‘تک پہنچاتا ۔چونکہ پرویز رشید بھی میاں صاحب کے دائیں بائیں دکھائی نہیں دیئے تو سوچا کیوں نہ کالم کے ذریعے بصد احترام میاں نوازشریف کو آگاہ کیا جائے کہ ہم ’’وفادار‘‘ نہیں تو، تو بھی تو ’’دلدار‘‘نہیں۔
بلاشبہ آپ قسمت کے دھنی اور مقدر کے سکندر ہیں اور کئی بار موت کے منہ سے بچ نکلنےمیں کامیاب ہوئے ہیں مگر جمہوریت پر غیر متزلزل یقین رکھنے اور سویلین بالادستی کی جدوجہد کرنیوالوں نے کبھی آپکو تنہا نہیں چھوڑا۔ اپریل1993ء میں صدر غلام اسحاق خان سے اَن بن کے بعد آپ نے شہرہ آفاق تقریر میں ’’ڈکٹیشن نہ لینے‘‘ کا اعلان کیا تو سیاسی مخالفین کا خیال تھا کہ نوازشریف نے سیاسی خودکشی کرلی ہے مگر سپریم کورٹ نے صدارتی حکم نامے کو تاریخ کے کوڑادان میں پھینک کر آپکی حکومت بحال کردی۔ مگر پھر کیا ہوا، آپ نے کاکڑ فارمولے کے تحت حکومت چھوڑدی۔ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی اور بینظیر بھٹو وزیراعظم بننے میں کامیاب رہیں مگر چند برس بعد ہی ووٹ کی طاقت سے آپ ہیوی مینڈیٹ لیکردوسری بار وزیراعظم بن گئے۔ حقیقت پسندی سے کام لینے کے بجائے آپ بادشاہ سلامت بن بیٹھے۔آپکے دور میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل منصور الحق کو کرپشن کے الزامات پر ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ہیوی مینڈیٹ کو عدالت کے ہتھوڑے سے کچلنے کی کوشش کی مگرنہ صرف انہیں گھر جانا پڑا بلکہ انکی سرپرستی فرمانے والے صدر فاروق لغاری بھی استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز دی تو آپ نے نتائج کی پروا کئے بغیر انہیں گھر بھیج دیا۔مقتدر حلقوں کو اس قدر بااختیار سربراہِ حکومت گوارہ نہیں تھا اسلئے آپکے دماغ سے سویلین بالادستی کا ’’خناس‘‘ نکالنے کیلئے جنرل پرویز مشرف کی خدمات حاصل کی گئیں۔ آپکو وزیراعظم ہائوس سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ طیارہ ہائی جیکنگ کا مقدمہ ہوا، عمر قید کی سزا ہوئی۔ فوجی حکمران کا منصوبہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کروایا جائیگا لیکن ایک دن اچانک سعودی عرب سے شاہی جہاز آیا اور شریف خاندان کو موت کے منہ سے بچا کر جدہ کے سرور پیلس لے گیا۔آپکے چاہنے والے، جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والے دیکھتے رہ گئے۔ مگر آپ پر بے وفائی کی پھبتی نہیں کسی۔ ساتھ چھوڑکر جانے کا طعنہ نہیں دیا۔آپ کو جلاوطن تو اس نیت سے کیا گیا تھاکہ اب یہ کہانی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگی لیکن عوام کی طاقت سے اس کہانی نے ایک نیا موڑ لے لیا اور آپ نے پاکستان واپس آنے کا ارادہ کرلیا۔ 10ستمبر 2007ء کو جہاز اسلام آباد ایئرپورٹ اترا تو ڈکٹیٹر نے دوبارہ جدہ واپس بھیج دیا۔ آپکو یاد ہوگا، پرویز مشرف نہایت متکبرانہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی۔ لیکن 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو پاکستان واپس آگئیں تو بادل نخواستہ آپکو بھی واپسی کی اجازت دینا پڑی۔ 25 نومبر 2007ء کوآپ پاکستان تشریف لائے توعوام سے یہی گلہ کیا اور کہا کہ لوگ کہتے تھے نوازشریف قدم بڑھائو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔جب میں نے قدم بڑھاکر پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔میں نے تب بھی لکھا کہ یہ گلہ بے جا ہے۔عوام کی طاقت سے اگلے برس ہی پرویز مشرف کو رخصت ہونا پڑا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہونگے لیکن ایسا ہوا۔ آپ کوجب جب غیرجمہوری قوتوں نے اقتدار سے نکالا، عوام نے ووٹ کی طاقت سے پھر سنگھاسن پر لابٹھایا۔ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پانامہ کے ہنگام آپکو ایوان اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔ احتساب عدالت سے سزا ہوگئی۔لندن گئے توبیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ اب لوٹ کر نہیں آئیں گے مگر آپ ہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی مریم کے ہمراہ گرفتاری دینے واپس آگئے۔ اسٹیبلشمنٹ خلاف تھی،عدالتیںہائبرڈ رجیم کے مکمل کنٹرول میں تھیں،صحافیوں پر بدترین سنسرشپ تھی،مگر آپ نے ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘کا نعرہ لگایا تو لوگوں نے یوں محبتیںنچھاور کیں کہ سیاسی بندوبست کرنیوالوں کواپنے لاڈلے کو کامیاب کروانے کیلئے RTSبٹھا نا پڑا۔
بعد ازاں جب عمران خان جیسا سیاسی مخالف برسراقتدار تھا،باجوہ ڈاکٹرائن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، صاف نظر آرہا تھا کہ اب آپکی بقیہ زندگی جیل میں بسر ہوگی۔لیکن پھر نقش کہن مٹ گیا۔اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ پٹ گیا۔سب بندوبست دھرے کا دھرا رہ گیا۔نشان عبرت بنانے کا دعویٰ کرنیوالے خود گردِ راہ ہوگئے۔لیکن پھر آپ نے تاریخ کے ہاتھوں مرنا قبول کرلیا ۔آپکے قصیدہ خواں یقیناً اسے سیاسی بصیرت قرار دیں گے کہ منہ زور آندھیوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے طوفان تھم جانے تک جھک جانے میں ہی عافیت ہوا کرتی ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘کا بیانیہ مفادات اور مصلحت پسندی کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔جب آپ نے مزاحمت کے بجائے مفاہمت پر اکتفا کرلیا تو پھر سویلین بالادستی کیلئے جدوجہد کرنیوالے کیا کرتے ؟آپکے اتحادیوں نے قوم کو ’’نواز‘‘دینے کے بجائے ’’شہباز‘‘دینے کا فیصلہ کرلیا تو اس میں لوگوں کا کیا قصور؟آپ اس قدر خفا ہوئے کہ‘‘ووٹ کو عزت دو ‘‘کا بیانیہ ہی لاپتہ نہیں ہوا بلکہ آپ خود بھی گوشہ نشین ہوگئے گویا ’’آئے عشاق، گئے وعدہ فردا لیکر...اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لیکر‘‘