• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’کبھی اس بات میں شک نہ کریں کہ چند سوچنے سمجھنے والے، پرعزم شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروپ دنیا کو بدل سکتا ہے: درحقیقت، دنیا جب بھی بدلی ہے تو اس کے پیچھے ایسے ہی چند لوگ ہوتے ہیں‘‘- مارگریٹ میڈ

ایک ایٹمی ریاست اور اب عالمی امن کا واحد ثالث ملک پاکستان، جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، اس اسلامی جمہوریہ کو کچھ اپنے عوام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر کمزور طبقے کے لوگوں پر جن میں ہمارے بچے اور خواتین سر فہرست ہیں اور جن کی زبوں حالی راز افزوں ہے۔ آج پاکستان کا دنیا میں امن کی کوششوں کے حوالے سے نام اونچا ہوا ہے جس کیلئے یقیناً حکومت تعریف کی مستحق ہے، لیکن اصل اور پائیدار قومی ترقی تو عوام کی فلاح اور خوشحالی میں مضمر ہوتی ہے۔

حال ہی میں بی بی سی کی ایک تہلکہ انگیز دستاویزی فلم کے ذریعے تونسہ شریف میں چھوٹے بچوں میں HIV کے پھیلنے کی خبر یوں تو دل دہلا دینے والی ہے لیکن یہ دراصل سمندر میں ڈوبے ایک بہت بڑے پہاڑ کی ایک ایسی نوک کی مانند ہے کہ جو سطح سمندر سے باہر نکل آئی ہو۔ اصل اور بڑا مسئلہ تو اُس زیر آب پہاڑ کا ہے جو بہت بڑا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ غربت، بیماری اورمسلسل گرتے ہوئی انسانی ترقی کے تمام اشاریوں پر مبنی اس پہاڑ کو ماننے، سمجھنے اور اس کیلئے کچھ فوری اور زود اثر کرنے کی ضرورت ہے۔ وگر نہ تونسہ میں جو کچھ ہمیں دیکھنے کو ملا اور جن بڑی وجوہات کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی پھیلا وہ اسباب تو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یعنی غیر محفوظ طبی پریکٹس بشمول آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور منتقلی کیلئے غیر اسکرین شدہ خون۔تونسہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی متواتر بڑھتی ہوئی تعداد اور اس سلسلے میں لوگوں کے احتجاج اور بی بی سی کی فلم سے کئی ماہ پیشتر بالا ٓخر پنجاب کے محکمہ صحت نے عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور یو این ایڈز کے ساتھ ملکر اپریل 2025 میں ایک مشترکہ مشن تشکیل دیا جس نے دسمبر 2024سے اپریل 2025ءتک ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کا تجزیہ کیا۔

اس وقت تک، 120 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے تھے، جن میں سے 75فیصد انفیکشن پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ہوئے۔ مشن کی رپورٹ میں واشگاف اعتراف کیا گیا ہے کہ بنیادی طور پر آلودہ سرنجوں کے بار بار استعمال کی وجہ سے 48فیصد بچوں میں ایچ آئی وی پھیلا اور خون لگانے سے پہلے اسکریننگ نہ کرنےیاغیر معیاری اسکریننگ کی وجہ سے بھی 48 فیصد بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہوا۔ لیکن کیا یہ ظلم اور مجرمانہ کوتاہیاں تونسہ تک محدود ہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ دراصل قومی سطح کے بحران کا ایک عکس ہے۔بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم نے کچھ ہفتے قبل اسی اسپتال میں انہی غیر محفوظ طریقوں کو ریکارڈ کیا جو کہ اب بھی اسی طرح جاری تھے۔ تب تکHIV سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھ کر 331 ہو چکی تھی۔

کم سے کم بھی کہا جائے تو یہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال ہے۔ مسئلوں کی سنجیدگی کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ تسلیم کرنے اور لوگوں کو فوری اور واضح اقدامات اور تدارک کی یقین دہانی کے بجائے ایک عجیب بے حسی اور بے نیازی کا دور دورہ ہے ۔ HIV دراصل سزائے موت کے مترادف ہے۔ چونکہ یہ غریب گھرانوں کے معصوم بچے ہیں لہٰذا کسی کو کوئی خاص فکر نہیں ہے۔ ایک طرف ہمارے بچے اس جان لیوا مرض کا شکار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ چونکہ گلوبل فنڈ حکومت کو براہ راست پیسے نہیں دیتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔خدارا اس روش کو بدلئے، یہ ہمارے بچے ہیں اور ہمیں ان کی دیکھ بھال کی مالی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ غریبوں کے بچے ہیں۔ اگر وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے امیر اور بااثر لوگوں کے بچے ہوتے تو ردعمل بہت تیز اور بہت مختلف ہوتا۔

پاکستان میں آج صحت عامہ کا بحران گزشتہ تمام حکومتوں کی اجتماعی ناکامی ہے اور اس کی اصلاح ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔شہریوں کو ملک میں صحت کی بہتر نگہداشت کیلئے اکٹھا ہونا ہوگا، جس کی فراہمی سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ شہریوں کو صحت کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ آگاہ اور ملوث ہونا ہوگا۔ تونسہ میں جو کچھ ہوا وہ بظاہر بہت دورنظر آتا ہے، لیکن اگر مؤثر طریقے سے اسے روکا نہ گیا تو یہ ہر طرف پھیل جائے گا۔ملک بھر میں باخبر شہریوں کا ایک اچھی طرح سے جڑا ہوا نیٹ ورک ہونا چاہیے ۔ ایک رضاکارانہ نیٹ ورک، جو کسی بھی بیرونی فنڈنگ سے پاک ہو، اس عزم اور ذمہ داری کے احساس سے کارفرما ہو کہ ہمیں پاکستان میں ہر ایک کیلئے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر اور محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

تصور کریں کہ ریاست اور معاشرہ ہر ایک کیلئے بہتر اور محفوظ صحت کی دیکھ بھال کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں حکومتیں صحت کی دیکھ بھال کے نظم و نسق، متعلقہ اداروں، پبلک سیکٹر میں فنڈنگ، جوابدہی اور سپلائیز کو بہتر بنانےکیلئےسنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کر رہی ہیں اور ریگولیٹری ایجنسیوں کے ذریعے نجی صحت کے شعبے کے سخت ضابطے میں۔ 160 سے زائد اضلاع میں سے ہر ایک میں فعال شہری گروپ، ایک منظم طریقے سے صحت کی خدمات کی فراہمی کی نگرانی کرتے ہیں اور مسائل پیدا ہوتے ہی حکام کو ان کی نشاندہی کرتے ہیں، اور ذمہ دار اہلکار ان مسائل کو دور کرنے کیلئے فوری کارروائی کرتے ہیں۔کوئی کہے گا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ عصر حاضر کے پاکستان میں شاید یہ تخیل کی سراسر بے باکی ہے۔ میں کہوں گا، خواب کو مت مرنے دو۔ اس کی بجائے اس کا حصہ بن جاؤ۔ ہماری صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ اتنی اہم ہے کہ اسے محض حکومتوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

تازہ ترین