• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2016 میں دنیا کے سامنے ایک بڑا دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیں گے لیکن10 سال بعد حقیقت نے اس دعوے کو بری طرح جھٹلا دیا ہے۔ آج پاکستان بیک وقت امریکا، چین، ایران، سعودی عرب اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ فعال رابطے میں ہے اور علاقائی سیاست میں ایک اہم اور ناگزیر فریق کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ایک رپورٹ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ مودی کی پاکستان مخالف مہم ناکام ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے اور علاقائی معاملات پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم فریق بن چکا ہے۔اس سلسلے میں سب سے اہم کردار گزشتہ برس مئی میں ہونے والے معرکہ حق نے ادا کیا جسکے دوران پاکستان کو حاصل ہونے والی برتری نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور عزت میں اضافہ کیا بلکہ بھارت کو دنیا کی نظروں میں ایک ایسا ملک بنا دیا جس سے تعلقات بدنامی اور بے توقیری کا باعث سمجھے جانے لگے۔ بھارت معرکہ حق کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر تنقید کرتا رہا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں غیرمعمولی شخصیت قرار دیا۔ معرکہ حق میں پاکستان کی مثالی کارکردگی دیکھنے کے بعد امریکا کے ساتھ ساتھ عرب ممالک بھی پاکستان کے گرویدہ ہو گئے اور بھارت کی طرف سے پاکستان کیخلاف کیا جانیوالا سارا پروپیگنڈا، یاوہ گوئی کا پلندہ بن کر رہ گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے محض سفارتی محاذ پر ہی نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی میدانوں میں بھی خود کو ایک اہم ملک ثابت کیا ہے۔ معدنیات کے وسیع ذخائر، سرمایہ کاری کے مواقع اور ذمہ دارانہ سفارتکاری نے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کروائی ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کی کثیر جہتی شراکت داری ، بنگلادیش کیساتھ تعلقات اور خلیجی ممالک پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے سیکورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب بھارت کی مودی سرکار اپنی اندرونی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے ہانپ رہی ہے۔بھارت کے اندر کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو مودی سرکار نے ہمیشہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے2 ہتھیار استعمال کئے ہیں، ایک مذہب کارڈ اور دوسرا پاکستان مخالف جذبات۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حکومت نے مسلمانوں، سکھوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جس ماحول کو پروان چڑھایا اس نے نہ صرف بھارتی معاشرے کو تقسیم کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مودی سرکار کی مسلم مخالف پالیسیوں پر دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی حکومتیں تنقید کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں باکو انیشی ایٹو گروپ اور سکھ فیڈریشن انٹرنیشنل نے بھارت کی سرحد پار دہشتگردانہ سرگرمیوں سے متعلق ایک رپورٹ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکام خالصتانی رہنمائوں کے خاندانوں کو ہراساں کر رہے ہیں، سکھ کارکنوں کو متعدد مغربی ممالک میں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں ۔یہ وہی بھارت ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔ مودی سرکار شاید اس بات سے واقف نہیں کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، یہ اقلیتوں کے حقوق، قانون کی بالادستی اور آزادانہ اظہارِ رائے کی ضمانت بھی ہے۔ جب ایک حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے مذہبی جنونیت کو ہوا دیتی ہے اور کمزور طبقوں کو نشانہ بناتی ہے تو وہ جمہوریت کی نہیں بلکہ آمریت کی علامت بن جاتی ہے۔ مودی سرکار نے 2014 سے لیکر اب تک بھارت میں یہی سب کیا ہے۔ جب بھی معاشی حوالے سے معاملات بگاڑ کی طرف گئے تو کسی مسجد، مزار یا تاریخی عمارت کا تنازع کھڑا کر دیا گیا۔ جب بھی حزبِ اختلاف نے سوالات اٹھائے جواب میں پاکستان مخالفت کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ایک جانب بھارت میں مودی سرکار اپنی غلط پالیسیوں اور آنکھوں پر بندھی نفرت کی پٹی کی وجہ سے یہ سب کر رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان نے اسی دور میں ایک مختلف راستہ اپنایا۔ پاکستان نے خاموشی سے اپنی سفارتی صفوں کو درست کیا، معاشی شراکت داریاں استوار کیں اور عالمی بیانیے کی جنگ میں حقائق اور دلیل کو ہتھیار بنایا۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان کی بات اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں غور سے سنی جاتی ہے، خطے کے ممالک پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے ہیں اور بڑی عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ تعاون کو اپنےمفاد ات سے جڑا ہوا دیکھتی ہیں۔صورتحال کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بات صرف جیو پولیٹکس کی نہیں، اس سوچ کی ہے جو حکمرانی کی بنیاد بنتی ہے۔ ایک ملک جو اپنے عوام کو روزگار، تعلیم اور صحت دینے میں ناکام ہو اور اس ناکامی کو چھپانے کیلئے دشمن کارڈ دکھائے، وہ نہ اندرونی طور پر مضبوط ہوسکتا ہے نہ بیرونی طور پر قابلِ احترام۔ بھارت آج اسی کیفیت میں ہے۔ مودی سرکار کی دس سالہ مہم کا انجام اس کی زندہ مثال ہے۔نیز مودی سرکار کی سیاحتی سفارتکاری کو ایک اور بدترین دھچکا لگا ہے۔ اپنی بدتہذیبی اور بدترین معاشرتی شعور کی بدولت بھارتی سیاح دنیا بھر میں ہزیمت کا باعث بن رہے ہیں، جسکی وجہ سے تھائی لینڈ نے بھارتی سیاحوں پر سخت ویزا قوانین نافذ کئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ نے بھارت کیلئے ویزا فری انٹری ختم کرتے ہوئے نئی امیگریشن پالیسی کے تحت بھارت کو بھی ویزا آن ارائیول کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔

تازہ ترین