خوش آئند پیش رفت
گلگت بلتستان کے انتخابات بہت زور شور سے ہوئے اور خدا کا شکر ہے کہ پُرامن رہے،ایک حلقے میں دو جماعتوں کے حمایتی آپس میں الجھے ضرور مگر تلواریں نیام میں رہیں تیر ترکش میں ایک بڑا ناخوشگوار واقعہ یہ ہوا کہ ایک پریزائڈنگ افسر تنائو نہ سہہ سکے اور ان کے دل کی حرکت بند ہو گئی۔اب تک جو بیس حلقوں کے نتائج سنائے گئے ہیں ان کے مطابق دس نشستیں پی پی پی کو تین مسلم لیگ کو ایک مجلس اتحاد المسلمین کو اور چھ آزاد امیدواروں کو ملی ہیں۔ایک دو دن میں آزاد امیدواروں کو اپنا گھونگھٹ اٹھانا ہو گا تاکہ بیرسٹر گوہر پہچان لیں ان کی تحریک انصاف کے ساتھی کتنے ہیں،چوہدری شجاعت حسین یا چوہدری پرویز الٰہی یا دیگر قائدین ان کا جائزہ اچھی طرح لے لیں۔ایک مرحلہ ابھی باقی ہے متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت خواتین اور ٹیکنیکل افراد کی نشستیں جماعتوں کو ملیں گی اور یوں یہ ایوان سینتیس اراکین کا ہوگا تب قائد ایوان یا وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب ہو گا۔امید ہے کہ نئے وزیرِ اعلیٰ سب سے پہلے مرحوم پی او کے گھر جائیں گے ان کی بیوہ اور خاص طور پر بچوں کی کفالت اور دل جوئی کے لئے خاطر خواہ اقدامات کریں گے۔
پاکستان میں دسمبر انیس سو ستر میں بالغ رائے دہی کے تحت پہلے عام انتخابات ہوئے تھے جس میں میں نے ووٹ ڈالا تھا،تب ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں مولانا حامد علی خان اور بابو فیروز الدین انصاری تھے،میں نے اور میری ماں نے بھٹو کو ووٹ دیا البتہ مجھے حیرت ہوئی جب میرے نانا جان نے مولانا حامد علی خان کو ووٹ دیا کیونکہ میرے نانا پاک دروازے کے رہنے والے تھا اور رہتک،حصار سے آنے والے مہاجرین کے بارے میں کافی متعصبانہ رائے رکھتے تھے اور میری درخواست کے باوجود وہ اس رائے کا بآوازِ بلند اظہار کرتے رہتے تھے۔ یہ انتخابات جنرل محمد ایوب خان کے خلاف طالب علموں،وکلا اور صحافیوں کی تحریک کے نتیجے میں ہوئے تاہم ایوب خان جاتے جاتے اپنا بنایا ہوا دستور بھی منسوخ کر گئے اور اقتدار مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اسپیکر قومی اسمبلی کو دینے کی بجائے اپنے کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو دے گئے۔
پھر بھٹو کے زمانے میں انتخابات ہوتے رہے،مجھے یاد ہے کہ ایک ایسے انتخاب میں گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول کے ہال اور فٹ بال گرائونڈ میں تین پولنگ اسٹیشن قائم ہوئے اور میرے ساتھ میرے دو دوست اصغر ندیم سید اور عبدالرئوف شیخ بھی ڈیوٹی دے رہے تھے۔ ہمیں جب سامان کا تھیلا ریٹرننگ افسر نے دیا تو بہت سے کتا بچوں، بیلٹ پیپرز کی کاپیوں، لفافوں اور مہروں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ دفعہ تیس کے مجسٹریٹ ہوں گے پولیس سے کہیں تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ مجھے جو پولیس اہل کار ملا وہ اپنے اسلوبِ گفتار سے اس محکمے کا نہیں لگتا تھا اگرچہ اس کی مونچھیں اور وردی تھی وہ بار بار آکے کہتا سرجی آسے پاسے گولیاں چل رہی ہیں فائر مارے جا رہے ہیں لیکن کچھ آپ کی وجہ سے اور کچھ میری وجہ سے ہمارا سنٹر پُر سکون ہے تنگ آ کے میں نے کہا مجھے سچ سچ بتائو آپ پولیس کے محکمے سے ہیں یا کہیں اور سے آئے ہیں اس نے کہا میں جی شہری دفاع کا رضا کار ہوں ایک دن کے لئے ہمیں پولیس کی وردی ملی ہے۔میں اس سے اور بے تکلف ہوا اور اسے دو رقعے دئیے ندیم سید اور رئوف شیخ کے نام کہ بھاگ کے جائو ان کے جواب بھی لکھوا لائو۔روف شیخ نے لکھا ایک دو مجھ سے زیادہ اونچی آواز میں بولے میں نے ان شر پسندوں کو دو تھپڑ لگا دئیے تب سے وہ خاموش ہیں مگر مجھے میرا پولیس والا ڈرا رہا ہے کہ جاتے وقت وہ آپ پر حملہ کریں گے چوکس رہئے۔ اصغر ندیم سید کا جواب ڈرامائیت سے لبریز تھا ’’یار میں نے تو سنا تھا کہ تمہیں تین گولیاں لگی ہیں ،میرا کلیجہ منہ کو آ گیا کہ اگر تم نہ رہے تو میرا تھیسس ادھورا رہ جائے گا البتہ میں نے تمہاری شہادت پر ایک نثری نظم لکھی ہے جو آج رات کو ہی سنائوں گا۔‘‘ گویا ایسے موقع پر تنائو کی کیفیت ہوتی ہے جس سے گزرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ادارے اور جمہوری اقدار پروان چڑھتے ہیں اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اب انشا اللہ ستائیس جولائی کو آزاد کشمیر میں انتخابات ہوں گے وہاں مہاجرین کی بارہ نشستوں کے بارے میں وہاں کے سپریم کورٹ میں جو ریفرنس بھیجا گیا وہاں سے جواب ملا کہ ان نشستوں کو دستوری تحفظ حاصل ہے اگر ان نشستوں کو ختم کرنا ہے یا کم کرنی ہیں تو دو تہائی اکثریت سے ایوان یہ کام کر سکتا ہے،اگرچہ راولاکوٹ میں افسوس ناک تصادم ہو چکا ہے تاہم کشمیری احباب سے درخواست ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں انتخابات کا انتظار کر لیں ہم سب نے ان کے استصوابِ رائے کے حق کے لئے ان کا ساتھ دیا ہے اب وہ بھارت کو ہم پر ہنسنے کا موقع نہ دیں۔
ان انتخابات میں بعض والدین کو بھی نئے نئے نام دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے ہمارے بزرگ دوست ایثار راعی نے تو اپنا بیٹا مجید امجد کی گود میں ڈال کے کہا تھا کہ اس کے لئے منفرد نام تجویز کرو انہوں نے کہا’’ بخت آثار‘‘اب ان انتخابات میں بھی کچھ اچھے نام آئے،نیک نام ،نیک نہاد یا دل پذیر اس لئے جو والدین عاصی کرنالی مرحوم سے یا سید اصغر علی شاہ مرحوم سے رجوع کرتے تھے شیرینی پیش کر کے ان سے منفرد نام مانگا کرتے تھے ان کے لئے یہ مواقع غنیمت ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی ایک شاعرہ ہے زرغونہ خالد زرغونے۔ان کی نئی کتاب دیارِ خواب سے دو شعر سن لیجئے
ہم نے بُھگتے ہیں انقلاب کئی
آپ کہتے ہیں کچھ ہوا ہی نہیں
دوسروں کو بدلنے والو تمہیں
پہلے خود کو بدلنا ہو گا