• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فالج کے مریضوں کیلئے نئی امید، معمولی طریقہ علاج سے بازوؤں اور ہاتھوں کی حرکت ممکن

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

فالج کا شکار ہونے والے افراد کے لیے ایک نئی اور انتہائی امید افزا طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کو ہلکا سا برقی کرنٹ (Electrical Stimulation) دے کر مریضوں کے کمزور پڑ جانے والے ہاتھوں اور بازوؤں کی حرکت کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے فالج کے برسوں بعد بھی مریضوں کی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سائنسی جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں امریکہ کی یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے محققین نے ایک خاص تکنیک کا استعمال کیا جس کی مدد سے دماغ کا ان پٹھوں کے ساتھ رابطہ دوبارہ قائم ہوجاتا ہے جو فالج کے باعث کمزور ہو چکے ہوتے ہیں۔

تقریباً 50 سال کی اوسط عمر کے مریضوں پر کیے گئے اس کامیاب تجربے کے دوران جب ریڑھ کی ہڈی کو برقی محرک دیا گیا، تو مریضوں کی طاقت میں فوری تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

ان میں بازو کو اوپر اٹھانے کی صلاحیت میں اوسطاً 28 فیصد بہتری آئی، کہنی کو سیدھا کرنے کی طاقت میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ ہاتھوں کی گرفت یعنی کسی چیز کو پکڑنے کی قوت میں 55 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مجموعی طور پر، برقی لہریں متحرک رہنے کے دوران مریضوں کے بازوؤں کی طاقت میں اوسطاً 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ فالج کے بعد پٹھوں میں آنے والا شدید کھچاؤ اور اکڑن بھی تمام مریضوں میں کم ہو گئی۔

ماہرینِ اعصابی نظام (نیورولوجسٹ) کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ تبدیلیاں دیکھنے میں شاید چھوٹی لگیں، لیکن فالج کے مریضوں کے لیے یہ معمولی سی بہتری بھی ان کی روزمرہ زندگی بدل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی مدد سے مریض اپنے قمیص کے بٹن خود بند کرنے، ہاتھ کھولنے یا اپنی پسند کا کوئی دوسرا کام کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی دوسروں پر انحصار کرنے کی مجبوری ختم ہو جاتی ہے۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈیوائس فی الحال ایک ’مددگار ٹیکنالوجی‘ کے طور پر کام کرتی ہے، یعنی جب تک کرنٹ آن رہتا ہے، مریض بہتر حرکت کر پاتے ہیں اور اسے بند کرنے پر پٹھے دوبارہ پرانی حالت میں آ جاتے ہیں۔

ماہرین اب اس کے مستقل علاج پر کام کر رہے ہیں تاکہ اسے مستقبل میں ایک عملی اور جسم کے اندر نصب کیے جانے والے مستقل آپشن کے طور پر عام مریضوں کے لیے پیش کیا جا سکے۔

صحت سے مزید