• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب صحافت شروع کی تو ایک لفظ تکرار کے ساتھ سنتے تھے ۔ وہ لفظ تھا نٹ ہائیڈل پروفٹ۔ اس وقت کی صوبائی حکومت مطالبہ کرتی رہی کہ وفاقی حکومت بجلی کے نٹ ہائیڈل پروفٹ کے بقایاجات ادا کرے ۔ یہ مطالبہ اس وقت بھی ہوتا رہا جب مرکز اور صوبے دونوں میں مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں تھیں ۔ اے این پی کی سیاست میں تو اس ایشو کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت وہ کئی سو ارب بنتے تھے لیکن کسی وفاقی حکومت نے پختونخوا کو وہ رقم نہیں دی اور اس کا سائز ہر سال بڑھتا گیا ۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ جب پرویز خٹک صاحب پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ درپردہ سازباز کرکے صوبے کیلئےچند ارب روپے یکمشت وصول کئے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب وہاں کی حکومتیں نٹ پروفٹ کا ذکر نہیں کررہی ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت پختونخوا کو بجلی کی قیمت میں بھی کوئی رعایت نہیں دے رہی بلکہ وہاں لوڈشیڈنگ بھی حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ لوڈشیڈنگ کیلئے وفاقی حکومت یہ دلیل دیتی ہے کہ چونکہ وہاں بعض فیڈرز پر چوری ہوتی ہے اس لئے ہمیں لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے حالانکہ بل وصول کرنا پیسکو کی ذمہ داری ہے اور جب وہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے تو ان لوگوں کو بھی سزا ملتی ہے جو بل بروقت ادا کرتے ہیں۔ گویا اس معاملے میں بھی وفاقی حکومت اپنے ادارے کی نااہلی کی سزا صوبے کے عوام کو دیتی ہے ۔پختونخوا کے ساتھ دوسرا ظلم صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے ضمن میں ہورہاہے ۔ سرتاج عزیز کمیٹی (جس کی سفارش پر قبائلی اضلاع کو ضم کردیا گیا) میں یہ واضح الفاظ میں درج تھا کہ دس سال تک ڈویزیبل پول کا تین فی صد ان اضلاع کیلئے مختص کیا جائےگا ۔پھر پارلیمنٹ کے فلور پر تقریباً تمام سیاسی رہنمائوں نے بھی یہ وعدہ کیا لیکن اس وقت سے لے کر آج تک کسی بھی حکومت نے وہ رقم پختونخوا کو نہیں دی۔ جب پچیسویں آئینی ترمیم (جس کے تحت فاٹا ضم کردیا گیا) منظور ہورہی تھی تو اس وقت ڈویزیبل پول کا تین فی صد تقریباً ایک سو بیس ارب روپے بن رہا تھا اور موجودہ دور میں دو سو ارب روپے سے زائد ہے لیکن نہ تو پی ٹی آئی کی حکومت نے قبائلی اضلاع کیلئے یہ رقم فراہم کی اور نہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ۔اس حساب سے دیکھا جائے تو وفاقی حکومت اس وقت صوبے کی کم ازکم ایک ہزار ارب روپے مقروض ہے لیکن کوئی اس کی ادائیگی کا نام نہیں لے رہا حالانکہ یہ علاقے پورے پاکستان کی سلامتی کیلئے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے ضمن میں یہ زیادتی صرف مذکورہ صورت میں نہیں ہورہی ہے بلکہ ایک اور حوالے سے بھی ظلم ہورہا ہے ۔ وہ یوں کہ اس وقت پختونخوا کو گزشتہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصہ مل رہا ہے لیکن قبائلی اضلاع کے مل جانے سے اس کی آبادی میں تقریباً پینسٹھ لاکھ نفوس(واضح رہے کہ جب گزشتہ مردم شماری ہورہی تھی تو قبائلی اضلاع کے زیادہ تر لوگ آئی ڈی پیز تھے اور ان کی مردم شماری بھی صحیح طریقے سے نہیں ہوئی) کا اضافہ ہوا ہے ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نیا ایف سی ایوارڈ کرکے صوبے کے حصے میں پینسٹھ لاکھ کے حساب سے اضافہ کیا جاتا لیکن نہ این ایف سی ایوارڈ ہورہا ہے اور نہ صوبے کا حصہ بڑھ رہا ہے ۔یوں ان قبائلی اضلاع کا بوجھ بھی صوبے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت نے یہ موقف اپنایا ہوا تھا کہ جب تک نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں ہوتا تو وہ سالانہ سو ارب روپے صوبے کو دے گی لیکن کسی ایک سال بھی وہ رقم پوری نہیں دی گئی اور پھر اس میں اضافی زیادتی یہ کی جاتی کہ وزرا ئےاعلیٰ قبائلی اضلاع کیلئے ملنے والی رقم اپنے انتخابی حلقوں میں خرچ کرتے کیونکہ اس رقم کیلئے الگ مد نہیں بنائی گئی تھی۔

ان دنوں پختونخوا کے ساتھ ایک اور ظلم ہورہا ہے لیکن وہ وفاقی حکومت کی بجائے پنجاب حکومت کی طرف سے ہورہا ہے ۔وہ یہ کہ پنجاب حکومت نے پختونخوا کو گندم کی سپلائی پر پابندی عائد کی ہے جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ اس معاملے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ( پی ٹی آئی) اور گورنر فیصل کریم کنڈی (پی پی پی) نے مل کر آواز اٹھائی اور پنجاب حکومت سے گورنر نے براہ راست بھی رابطے کئے لیکن پابندی نہیں ہٹائی جارہی ہے ۔ اٹک پل پر عموماََ تلاشی پشاور کی طرف سے آنے والی گاڑیوں کی لی جاتی تھی لیکن اب اس سے زیادہ سخت چیکنگ پنجاب کی طرف سے ہورہی ہے کہ کہیں کوئی آٹا یا گندم تو پختونخوا نہیں لے جارہا ہے ۔ پنجاب حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے وہاں پر وفاق سے بھی نفرت پیدا ہورہی ہے اور پختونخوا کے لوگوں کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ جیسے وہ کسی اور ملک کے باشندے ہوں۔

ایک اور زیادتی گیس کی مد میں ہورہی ہے ۔ پختونخوا میں اس وقت جو گیس پیدا ہورہی ہے وہ اس کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ پختونخوا کی اس گیس سے پورا ملک مستفید ہورہا ہے لیکن گزشتہ ماہ وفاقی حکومت نے وہاں کی تمام سی این جیز کی گیس کی سپلائی بند کردی ۔ علاوہ ازیں گیس کی لوڈشیڈنگ بھی بڑھ گئی۔ اب ایک طرف تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سی این جی کی طلب بھی بڑھ گئی تھی اور دوسری طرف حکومت نے اس کی سپلائی بند کردی جس کی وجہ سے لوگ احتجاج پر مجبور ہوگئے ۔ جس کے بعد حکومت نے سپلائی بحال کردی لیکن اصولی طور پر پختونخوا میں گیس کی لوڈشیڈنگ ایک گھنٹے کے لئے بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ صوبہ اپنی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کررہا ہے ۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گیس پختونخوا میں پیدا ہورہی ہے تو وہ اس سے محروم رہے لیکن دوسری طرف گندم پنجاب میں پیدا ہوتی ہے تو پہلے وہ اپنی ضرورت پوری کرکے پختونخوا کو لے جانے کی اجازت دے۔

تازہ ترین