جاپان تقریباً 12کروڑ 40لاکھ افراد کا ملک ہے، ایک ایسا ملک جس نے دوسری جنگِ عظیم میں تقریباً مکمل تباہی دیکھی۔ اسکے باوجود محض پچیس سے تیس برس کے اندر جاپان دنیا کی دوسری بڑی آزاد منڈی کی معیشت، امریکہ کے بعد، بن کر ابھرا۔حال ہی میں ہمیں اپنی اہلیہ کیساتھ جاپان کے تین بڑے شہروں، اوساکا، کیوٹو اور ٹوکیو جانے کا موقع ملا۔ اوساکا ایک ایسے بڑے شہری خطے کا حصہ ہے جسکی آبادی تقریباً ایک کروڑ نوے لاکھ ہے؛ کیوٹو نسبتاً چھوٹا مگر تاریخی اعتبار سے نہایت اہم شہر ہے، جبکہ گریٹر کیوٹو کی آبادی تقریباً تیس سے چالیس لاکھ ہے اور ٹوکیو دنیا کے سب سے بڑے شہری مراکز میں سے ایک ہے، جہاں شہر کی اپنی آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد اور وسیع تر شہری خطے کی آبادی تین کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ سفر صرف ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنے کا تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سوسائٹی کو قریب سے جاننے کا موقع بھی تھا جو منظم، مہذب اور دوسروں کا خیال رکھتی ہے۔میں کئی سال بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ جاپان گیا، اور اس سفرنامے میں بیان کیے گئے خیالات ہمارے اسی ذاتی دورےکے دوران حاصل ہونے والے تجربات پر مبنی ہیں۔ یہ تحریر انہی مشاہدات پر مبنی ہے۔ گلیوں، سڑکوں، ٹرینوں، بازاروں، عبادت گاہوں، ریستورانوں اور لوگوں سے روزمرہ ملاقاتوں سے حاصل ہونے والے چند سادہ اسباق، جو دراصل قوموں کی تعمیر، ان کی دیکھ بھال اور ان کے عالمی احترام کی بنیاد بنتے ہیں۔جاپان دنیا کے جدید ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود اپنی زبان اور ثقافت پر فخر کرتاہے۔ بازار ہوں، بڑے اسٹورز، ریلوے اسٹیشن، دفاتر، عوامی مقامات یا ریستوران، ہر جگہ جاپانی زبان ہی غالب نظر آتی ہے۔ یہ قومی اعتماد، ثقافتی ملکیت اور اپنی شناخت پر یقین کی علامت ہے۔سب سے نمایاں چیز صفائی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر جگہ جگہ کوڑے دان نظر نہیں آتے۔ ہر سڑک، اسٹیشن، گلی یا چھوٹی لین پر کوڑے دان موجود نہیں ہوتے۔ مگر اس کے باوجود صفائی مثالی ہے۔ یہ صفائی اتفاقی نہیں بلکہ ایک وسیع حکومتی پالیسی اور شہری نظام کا حصہ ہے جو پورے جاپان میں نافذ ہے۔ کئی مقامات پر واضح تحریری نشانات لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کچرا ہو تو اسے عوامی جگہ پر پھینکنے کے بجائے گھر واپس لے جائیں۔ لوگ اپنا کچرا اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور مناسب جگہ پر ہی تلف کرتے ہیں۔ کہیں نظر آنے والا کچرا نہیں، نہ ریپرز، بوتلوں یا پلاسٹک بیگز کو لاپرواہی سے پھینکنے کا رویہ، اور کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ صفائی صرف حکومت یا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔بسوں، ٹرینوں اور عوامی مقامات پر لوگ کھاتے پیتے ہوئے چلتے پھرتے کم ہی نظر آتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی ریپر یا خالی بوتل یا کوئی چھوٹی کچرے کی چیز ہو تو وہ اسے سنبھال کر رکھتے ہیں جب تک انہیں اسے تلف کرنے کی مناسب جگہ نہ مل جائے۔ یہی نظم بسوں کے اندر بھی نظر آتا ہے، جہاں لوگ بس کے اندر یا سیڑھیوں پر چیزیں نہیں پھینکتے۔ بسوں میں کوڑے دان بھی موجود ہوتے ہیں تاکہ مسافر اپنا کچرا صحیح طریقے سے پھینک سکیں، بجائے اس کے کہ اسے پیچھے چھوڑ دیں۔ گویا صفائی بنیادی ڈھانچے سے زیادہ ذاتی ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔یہی سوچ دکانوں اور شاپنگ مالز میں بھی نظر آئی۔ کپڑے آزمانے کے کمروں میں جوتے اتارے جاتے ہیں، ہاتھوں اور پاؤں کی صفائی کیلئے جراثیم کش محلول استعمال کیا جاتا ہے، اور کئی جگہ دستانے فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ کپڑے صاف ستھرے رہیں اور جراثیم، بیکٹیریا یا میل کچیل ایک شخص سے دوسرے شخص تک کپڑوں کے ذریعے منتقل نہ ہوں۔ یہ صرف صفائی نہیں بلکہ حفظانِ صحت، احتیاط، دوسروں کے احترام اور جسمانی صحت و بہتری کو فروغ دینے کا اظہار بھی ہے۔مندر ہوں یا دیگر عبادت گاہیں، ہر جگہ غیر معمولی صفائی اور ترتیب دکھائی دی۔ ہم نے جو قدیم مندر دیکھے وہ بے حد صاف، منظم اور اچھی طرح برقرار رکھے گئے تھے۔ کہیں بے ترتیبی یا غفلت کا احساس نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صفائی ان کے مذہبی اور سماجی شعور کا حصہ بن چکی ہے اور مشترکہ مقامات کی دیکھ بھال ان کی وسیع تر ثقافت کا حصہ ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ بھی نظم و ضبط کی بہترین مثال ہے۔ زیرِ زمین ٹرین، میٹرو اور دیگر نظاموں میں خاموشی، صفائی، جدید انداز اور ترتیب نمایاں نظر آتی ہے۔ لوگ پڑھتے ہیں، خاموشی سے بیٹھتے ہیں، فون استعمال کرتے ہیں مگر دوسروں کو پریشان نہیں کرتے، یا اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ نہ شور، نہ اونچی آواز میں گفتگو، نہ دھکم پیل اور نہ ہی بے صبری۔ایک دلچسپ مشاہدہ یہ تھا کہ ایک دوپہر تقریباً ڈھائی بجے میٹرو میں سفر کے دوران جب میں اور میری اہلیہ میٹرو میں داخل ہوئے تو وہ تقریباً بھری ہوئی تھی، اور تقریباً تمام مسافر خواتین تھیں اور میں واحد مرد مسافر تھا۔ اس منظر نے یہ احساس دلایا کہ جاپانی خواتین معاشرتی اور معاشی زندگی میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اعتماد کے ساتھ سفر کرتی ہیں، کام کرتی ہیں، خریداری کرتی ہیں، اور اپنی روزمرہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔ یہ ایسی سوسائٹی نہیں جہاں خواتین صرف گھروں تک محدود ہوں۔جاپانیوں کی مہمان نوازی اور خدمت کا جذبہ بھی متاثر کن ہے۔ جب بھی ہمیں کسی مقام کا راستہ معلوم نہ ہوتا، لوگ صرف سمت بتانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ کئی بار ہمارے ساتھ چل کر منزل تک پہنچانے میں مدد کرتے تھے۔ دو تین مرتبہ لوگوں نے تقریباً آدھا کلومیٹر پیدل چل کر ہماری رہنمائی کی۔ یہ صرف کسٹمر سروس نہیں تھی بلکہ اجنبیوں کیلئے حقیقی انسانی دیکھ بھال اور ذمہ داری کا احساس تھا۔ایک موقع پر میرا پرانا سم کارڈ جاپان کے ایک نہایت مقبول اور سہولت بخش اسٹور، سیون الیون، میں گر گیا۔ میں وہاں نیا سم کارڈ خریدنے گیا تھا۔ کاؤنٹر پر موجود نوجوان ملازم خود باہر آیا، جھکا، کئی منٹ تک تلاش کرتا رہا تقریباً پانچ یا چھ منٹ، اور آخرکار اسے ڈھونڈ کر واپس کیا۔ اس کیلئے یہ ایک معمولی چیز ہو سکتی تھی، مگر اس نے اسے اہم سمجھا۔(جاری ہے)