• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی آئینی عدالت: نگران دور میں کی گئی بھرتیاں خلافِ قانون قرار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

وفاقی آئینی عدالت نے نگراں حکومتوں کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے نگراں دور میں کی گئی بھرتیوں کو خلافِ قانون اور ملازمین کی برطرفی کے لیے بنایا گیا قانون آئین کے مطابق قرار دے دیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نگراں حکومتوں کا کام صرف روزمرہ امور سرانجام دینا ہے اور وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتیں جو مستقل نوعیت کا ہو۔ 

عدالت کے مطابق نگراں حکومت کبھی بھی منتخب حکومت کے ہم پلہ بااختیار نہیں ہوتی اور اس کا ہر اقدام الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری سے مشروط ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا کام ہیں، عارضی نہیں، اس لیے جنوری 2023ء سے فروری 2024ء تک نگراں حکومتوں کی جانب سے کی گئی بھرتیاں خلافِ قانون ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختون خوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025ء بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہے۔

عدالت کے مطابق کسی قانون سے اگر چند لوگ متاثر ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بنیادی حقوق کے منافی ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی خیبر پختون خوا اسمبلی قانون سازی کا آئینی حق رکھتی ہے۔

عدالت نے برطرف ملازمین کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کر دیں۔ 

یاد رہے کہ خیبر پختون خوا کی نگراں حکومت نے درجۂ چہارم کے ملازمین کو مستقل بھرتی کیا تھا جبکہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے نگراں دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔ 

متاثرہ ملازمین نے اپنی برطرفی اور اس مقصد کے لیے بنائے گئے قانون کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید