• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان کا خاموش پیغام: پاکستانی مسافر کی نظر سے

جاپان میں ایمانداری بھی روزمرہ زندگی کا حصہ محسوس ہوئی۔ اگر کوئی چیز کہیں رہ جائے تو لوگ اسے اٹھا کر مالک تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ اگر آپ کچھ بھول جائیں تو لوگ اسے واپس کرنے کیلئے آپکے پیچھے بھاگ کر بھی آ سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ایک دو مرتبہ ہوا۔ لوگوں نے چیز واپس کی، شکریہ کہا اور خاموشی سے چلے گئے۔

ایسے واقعات روزمرہ زندگی میں ایمانداری کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹریفک کا نظم و ضبط اپنی مثال آپ ہے۔ پیدل چلنے والے سگنل سبز ہونے تک انتظار کرتے ہیں، چاہے سڑک بالکل خالی کیوں نہ ہو۔ گویا اصول اسلیے نہیں مانے جاتے کہ کوئی دیکھ رہا ہے بلکہ اسلیے کہ وہ اصول ہیں۔خریداری کے دوران بھی ایک دلچسپ نظام نظر آیا۔ چاہے ٹکٹ خریدنی ہو، روزمرہ استعمال کی اشیاء لینی ہوں یا کسی دکان سے کوئی چیز خریدنی ہو، دکاندار اور گاہک کے درمیان ایک چھوٹی سی ٹرے رکھی جاتی ہے جس میں رقم یا کارڈ رکھا جاتا ہے اور اسی میں بقایا رقم یا رسید واپس کی جاتی ہے۔ کئی جگہ عملہ چیزیں سنبھالتے ہوئے دستانے بھی پہنتا ہے۔ یہ طریقہ صفائی، ترتیب، براہِ راست ہاتھ سے ہاتھ کے رابطے کو کم کرنے، رقم کے لین دین کو منظم بنانے اور ذاتی فاصلے کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔جاپان میں ٹِپ دینے کا رواج نہیں۔ نہ ٹِپ کی اجازت ہے اور نہ ہی اسکا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وہاں کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ انکی اجرت انکی ضروریات پوری کرنےکیلئے کافی ہونی چاہیے۔ یہ سوچ محنت کے وقار، خودداری اور مضبوط کام کی اخلاقیات کی عکاس ہے۔ ٹیکسیوں میں دروازے خودکار طریقے سے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔

ایک مرتبہ جب ہم نے دروازہ خود کھولنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے ہمیں روک کر کہا کہ ہینڈل کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ دروازہ خود کھل جائے گا۔ جب ہم اندر بیٹھ گئے تو دروازہ خود بندہی ہو گیا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی سہولت ہے، لیکن اس کے پیچھے بھی حفظانِ صحت، صارف کی آسانی اور بہترین سروس کا تصور کارفرما نظر آتا ہے۔جاپان میں لفٹس بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ معاشرے میں دیکھ بھال اور دوسروں کا خیال کس حد تک شامل ہے۔

اکثر لفٹس میں دو طرح کے بٹن ہیں۔ ایک سیٹ عام اونچائی پر عام صارفین کیلئے ہے، جبکہ دوسرا سیٹ نیچے نصب ہے، جسمانی طور پر معذور افراد اور وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کیلئے جن کے ہاتھ اوپر والے بٹنوں تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح بڑے دفاتر، شاپنگ مالز اور بڑے اسٹورز میں خاص تیز رفتار لفٹس بھی موجود ہوتی ہیں، جو عموماً سرخ رنگ سے نمایاں کی جاتی ہیں، اور بزرگ افراد، چھوٹے بچوں کو پرام میں لے جانے والے والدین، وہیل چیئر استعمال کرنے والوں اور حاملہ خواتین کیلئے مخصوص ہوتی ہیں۔ ان لفٹس کو آسائش نہیں بلکہ ان لوگوں کیلئے ضروری سہولت سمجھا جاتا ہے جنہیں اضافی دیکھ بھال اور آسانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بظاہر ایک چھوٹی تفصیل لگ سکتی ہے، مگر حقیقت میں یہ شمولیت اور انسانی وقار کے گہرے احساس کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ جاپان جسمانی محدودیت رکھنے والے لوگوں کے آرام اور خودمختاری کے بارے میں کتنی باریکی سے سوچتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ بھی نظم و ضبط کی بہترین مثال ہے۔

زیرِ زمین ٹرین، میٹرو اور دیگر نظاموں میں خاموشی، صفائی، جدید انداز اور ترتیب نمایاں نظر آتی ہے۔ لوگ پڑھتے ہیں، خاموشی سے بیٹھتے ہیں، فون استعمال کرتے ہیں مگر دوسروں کو پریشان نہیں کرتے۔ نہ شور، نہ اونچی آواز میں گفتگو، نہ دھکم پیل اور نہ ہی بے صبری۔ایک دلچسپ مشاہدہ یہ تھاکہ ایک دوپہر تقریباً ڈھائی بجے میٹرو میں سفر کے دوران جب میں اور میری اہلیہ میٹرو میں داخل ہوئے تو وہ تقریباً بھری ہوئی تھی، اور تقریباً تمام مسافر خواتین تھیں اور میں واحد مرد مسافر تھا۔ اس منظر نے یہ احساس دلایا کہ جاپانی خواتین معاشرتی اور معاشی زندگی میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اعتماد کے ساتھ سفر کرتی ہیں، کام کرتی ہیں، خریداری کرتی ہیں، اور اپنی روزمرہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔ یہ ایسی سوسائٹی نہیں جہاں خواتین صرف گھروں تک محدود ہوں۔جاپانیوں کی مہمان نوازی اور خدمت کا جذبہ بھی متاثر کن ہے۔

جب بھی ہمیں کسی مقام کا راستہ معلوم نہ ہوتا، لوگ صرف سمت بتانے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ کئی بار ہمارے ساتھ چل کر منزل تک پہنچانے میں مدد کرتے تھے۔ دو تین مرتبہ لوگوں نے تقریباً آدھا کلومیٹر پیدل چل کر ہماری رہنمائی کی۔ یہ کوئی کسٹمر سروس نہیں تھی بلکہ اجنبیوں کیلئے حقیقی انسانی دیکھ بھال اور ذمہ داری کا احساس تھا۔ایک موقع پر میرا پرانا سم کارڈ جاپان کے ایک نہایت مقبول اور سہولت بخش اسٹور، سیون الیون، میں گر گیا۔ میں وہاں نیا سم کارڈ خریدنے گیا تھا۔

کاؤنٹر پر موجود نوجوان ملازم خود باہر آیا، جھکا، کئی منٹ تک تلاش کرتا رہا تقریباً پانچ یا چھ منٹ، اور آخرکار اسے ڈھونڈ کر واپس کیا۔ اس کے لیے یہ ایک معمولی چیز ہو سکتی تھی، مگر اس نے اسے اہم سمجھا۔جاپان میں ٹِپ دینے کا رواج نہیں۔ نہ ٹِپ کی اجازت ہے اور نہ ہی اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وہاں کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ ان کی اجرت ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ یہ سوچ محنت کے وقار،خودداری اور مضبوط کام کی اخلاقیات کی عکاس ہے۔

تازہ ترین