ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وٹامن سی ناصرف جسمانی صحت بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً بڑھتی عمر میں دماغی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے 64 سال سے زائد عمر کے 2000 سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا، ماہرین نے شرکاء کے خون میں موجود وٹامن سی کی مقدار کا موازنہ ان کے دماغ کے ایم آر آئی اسکینز سے کیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں وٹامن سی کی سطح کم تھی، ان کے دماغ میں گرے میٹر (Gray Matter) کی مقدار بھی نسبتاً کم پائی گئی۔
گرے میٹر دماغ کا وہ حصہ ہے جو یادداشت، سیکھنے، فیصلہ سازی اور معلومات پر عمل درآمد جیسے اہم افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم وٹامن سی رکھنے والے افراد کے دماغ میں ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک (Default Mode Network) کی رابطہ کاری نسبتاً کمزور تھی۔
یہ نیٹ ورک دماغ کے مختلف حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یادداشت کو محفوظ رکھنے میں مدد، توجہ اور ارتکاز برقرار رکھنے، ذاتی تجربات اور ماضی کی یادوں کو پروسیس کرنے اور ذہنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا اہم کام انجام دیتا ہے۔
ماہرین نے عمر، جسمانی سرگرمی، تعلیمی سطح اور دیگر عوامل کو بھی مدِنظر رکھا، تاہم اس کے باوجود وٹامن سی کی کم سطح اور دماغی صحت کے درمیان تعلق برقرار رہا۔
جاپان کی ایک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف کے مطابق یہ نتائج اس دلچسپ امکان کو جنم دیتے ہیں کہ وٹامن سی سے بھرپور غذا عمر رسیدہ افراد میں دماغی صحت کو برقرار رکھنے اور عمر کے ساتھ آنے والی ذہنی کمزوری کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے صرف ایک تعلق سامنے آیا ہے، یہ ثابت نہیں ہوا کہ وٹامن سی براہِ راست دماغی صحت میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔
اس لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وٹامن سی واقعی عمر کے ساتھ دماغی تنزلی کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔
وٹامن سی قدرتی طور پر کئی پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتا ہے، جن میں مالٹے اور کینو، لیموں، امرود، اسٹرابیری، کیوی، شملہ مرچ، بروکلی اور ٹماٹر شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا میں وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔