ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس (Artificial Sweeteners) کا زیادہ استعمال یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت میں تیز رفتار کمی سے منسلک ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کا 8 سال تک جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں 7 عام کم یا بغیر کیلوریز والے میٹھے اجزا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے کا مطالعہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق جن افراد نے مصنوعی مٹھاس سب سے زیادہ مقدار میں استعمال کی (اوسطاً 191 ملی گرام روزانہ، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر ہے) ان میں یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار، کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
درمیانی مقدار استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس اور ذہنی کارکردگی میں کمی کے درمیان تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں تھا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل 7 مٹھاس والے اجزا میں سے ٹیگاٹوز کے علاوہ باقی 6 اجزا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو اکثر چینی کا صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مصنوعی مٹھاس والے اجزا طویل مدت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ مشاہداتی (Observational) تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی یادداشت میں کمی کی براہِ راست وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان نتائج کی تصدیق اور متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔