• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دل کی ایک چوتھائی بیماریاں و اموات پراسیسڈ غذاؤں سے منسلک ہیں: تحقیق

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں دل کی بیماریوں اور ان سے ہونے والی تقریباً ایک چوتھائی اموات کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہیں۔

امریکن جرنل آف پریونٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی اور میکسیکو میں منعقدہ انٹرنیشنل کانگریس آف اوبیسٹی میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق اگر لوگ الٹرا پروسیس غذاؤں کا استعمال کم کر دیں تو دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماضی کی مختلف تحقیقات بھی اس بات کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ الٹرا پروسیس غذائیں انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں، تاہم ماہرین کے درمیان اس بات پر اب بھی اختلاف موجود ہے کہ ان نقصانات میں خود غذاؤں کی پروسیسنگ کا کتنا کردار ہے اور کتنا ان میں موجود چکنائی، چینی اور نمک کی زیادہ مقدار کا جو مختلف طبی مسائل کا باعث بنتی ہیں۔

الٹرا پروسیس غذاؤں میں آئس کریم، پروسیسڈ گوشت، چپس، فیکٹری میں تیار کی جانے والی ڈبل روٹی، ناشتے کے سیریئلز، بسکٹ، ریڈی میڈ کھانے اور کاربونیٹیڈ مشروبات شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں روزانہ حاصل کی جانے والی مجموعی کیلوریز کا تقریباً 56 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ نو عمروں میں یہ شرح 68 فیصد تک ہے۔

تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 2019ء میں دل کے دورے اور فالج کے 23 سے 38 فیصد واقعات الٹرا پروسیس غذاؤں کے استعمال سے منسلک تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی کر دی جائے تو تقریباً 46 ہزار دل کے امراض کے کیسز اور 8 ہزار سے زائد اموات سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ دل کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے الٹرا پروسیس غذاؤں کے استعمال میں کمی کو قومی صحت کی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید