پاکستان میں 6 لاکھ 51 ہزار بچے معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے مطابق حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں کمزوریاں بچوں کی جانوں کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہیں، ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد بڑھنے سے قابل انسداد بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔
پی ایم اے کے مطابق ای پی آئی پروگرام کے فنڈز کا مکمل آڈٹ اور بدعنوانی کا احتساب کیا جائے، 6 لاکھ 51 ہزار زیرو ڈوز بچوں کی فوری نشاندہی کرکے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دیا جائے، فرنٹ لائن طبی عملے کو بروقت تنخواہیں، تربیت اور تحفظ فراہم کیا جائے۔