• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ، ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ، آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات اور عالمی اقتصادی سست روی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید بے یقینی دیکھی گئی۔ جبکہ دوسری طرف عالمی طلب میں کمی اور بعض تیل پیدا کرنے والے ممالک کی اضافی پیداوار کے باعث قیمتوں میں کمی کے رجحانات بھی سامنے آئے۔ انہی عالمی عوامل کے نتیجے میں پاکستان کو بھی بعض اوقات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ ملا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند خبر ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے چاہئیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل پر لاگت گھٹنی چاہیے اور عام صارف کو ریلیف ملنا چاہیے۔ مگر پاکستان میں ایک عجیب اور افسوسناک روایت بن چکی ہے کہ جب تیل مہنگا ہو تو ہر چیز فوراََ مہنگی کر دی جاتی ہے ،لیکن جب تیل سستا ہو تو کسی چیز کی قیمت نیچے آنے کا نام نہیں لیتی۔ اگر پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے تو آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، پھل، دودھ، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کیوں بدستور مہنگی ہیں؟ اگر حکومت اور کاروباری طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیا مہنگی ہوئی تھیں تو پھر اب ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے کے بعد قیمتیں نیچے کیوں نہیں آ رہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کا طوفان اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ قیمت میںمعمولی کمی اب عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بجلی، گیس، پٹرول ، ادویات تعلیمی اخراجات اور روزمرہ استعمال کی تقریباََ ہر شے کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بازاروں میں ایک اور سنگین مسئلہ ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری کا ہے۔ پھر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو وہی عناصر اپنے منافع میں کمی برداشت کرنے کے بجائے مصنوعی طور پر نرخ بلند رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنے کے بجائے چند مخصوص حلقوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیمتوں کے تعین اور ان پر عملدرآمد کے درمیان ایک بہت بڑا خلا موجود ہے۔ سب سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں کا از سر نو تعین کیا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے ۔ دوسرا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے ضلعی سطح پر فعال اور با اختیار کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کا جائزہ لیں۔ تیسرا، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف خصوصی مہم چلائی جائے اور بڑے جرمانوں کے ساتھ قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔ اسی طرح حکومت کو زرعی شعبے کی بہتری پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تا کہ خوراک کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو اور درآمدی انحصار کم ہو۔ ڈیجیٹل پرائس مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا جائے تا کہ عوام اپنے موبائل فون کے ذریعے مختلف اشیا کی سرکاری قیمتوں سے آگاہ رہ سکیں۔

دوسری جانب حکومت نے بجٹ سے پہلے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرادی ہے۔ کوئی بھی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ریاست کے بنیادی فرائض، عوامی خدمات، انفراسٹرکچر اور معاشی استحکام سب ٹیکسوں پر منحصر ہے ، لیکن یہ بھی لازم ہے کہ ٹیکس کا نظام سادہ ، عام فہم اور کرپشن سے پاک ہو، پاکستان کے ٹیکس دہندگان کو بڑی شکایت ہی یہ ہے کہ جو بھی ٹیکس دینا چاہتا ہے ،محکمہ اس کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے کہ وہ دوسروں کیلئے عبرت کا نشان بن کر رہ جاتا ہے ۔محکمے کے اہلکار خود لوگوں کو ٹیکس چوری کے راستے بتاتے ہیں تاکہ قومی خزانے کے بجائے اپنی جیب بھر سکیں ۔ چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حالیہ اسکیم اس صورتحال میں ایک مثبت قدم ہے۔ سالانہ ٹرن اوور20کروڑ روپے تک کے دکانداروں کیلئے یہ اختیاری انتظام تیار کیا گیا ہے جو سادگی اور آسانی پر مبنی ہے۔ تاجر تنظیمیں بھی اس عمل میں شامل ہیں، جو اعتماد بحال کرنے کی طرف اہم اشارہ ہے۔ اگر یہ اسکیم شفافیت کے ساتھ نافذ ہوئی تو چھوٹے کا روباروں میں خود اعتمادی بڑھے گی اور ریکارڈ کی بنیاد پر معیشت مضبوط ہوگی ۔ تاہم صرف اس ایک اقدام سے معاشی بحران پر قابو پانا ممکن نہیں، کیونکہ خرابی کی جڑیں کہیں گہری ہیں۔ سب سے پہلے تو اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانا نا گزیر ہے۔ گزشتہ برس ایف بی آر کے چیئر مین نے واضح طور پر کہا تھا کہ سب سے زیادہ کمانے والے5 فیصد لوگ نہ صرف ٹیکس ادا نہیں کرتے بلکہ گوشوارے بھی جمع نہیں کراتے ۔ یہ لوگ کاروبار صنعت، زراعت اور دیگر شعبوں میں غلبہ رکھتے ہیں ۔ جب تک اس طبقے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دوسرا اہم مسئلہ عدالتوں میں پڑے لاکھوں کروڑ روپے کے مقدمات ہیں۔ ٹیکس اور کسٹمز سے متعلق تقریباً 50 ہزار 732مقدمات زیر سماعت ہیں جن کی مالیت5ہزار700ارب روپے کے قریب ہے۔ لازم ہے کہ ان مقدمات کے جلد فیصلے اور اس رقم کو قومی خزانے میں وصول کرنے کی خاطر فوری اقدامات کئے جائیں ، اول یہ کہ فوری طور پر قانون سازی کی جائے اور دوسری جانب یہ بھی لازم ہے کہ اٹارنی جنرل کے آفس کے ذریعے چیف جسٹس سے درخواست کی جائے کہ ان مقدمات کی خصوصی سماعت کیلئے نوٹس لیا جائے ۔ اگر حکومت سنجیدگی سے ان اقدامات پر عمل کرے تو ٹیکس کلچر میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے اور پاکستان ایک خود مختار،مستحکم معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

تازہ ترین