• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث، اپوزیشن کی تنقید

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث جاری ہے، جمال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بہترین بجٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو بڑی کامیابی ہے، بجٹ میں بلوچستان کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں، کوئٹہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے اسے فوری حل کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہٹا کر 13 جماعتی پی ڈی ایم حکومت تشکیل دی گئی، پی ٹی آئی نے کورونا میں بہترین کام کیا مڈل کلاس کو مشکلات سے بچایا، پی ٹی آئی حکومت نہ ہٹائی جاتی تو ملک ترقی کرتا، پی ٹی آئی حکومت ہٹا کر شہباز اسپیڈ حکومت لائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بلز زیادہ آرہے ہیں، پیٹرول 450 روپے لیٹر عوام کو مل رہا ہے، تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بانی پی ٹی آئی کو قید کر کے حکومت کی تسلی نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج فراہم کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ وقت نے سائفر کو سچ ثابت کیا، کسی کا کاروبار نہیں چل رہا، عام آدمی کے استعمال کی 47 اشیا مہنگی کردی گئی ہیں، کے پی میں ڈرون حملے بند کیے جائیں، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے، کل کو ہم حکومت میں اور آپ اپوزیشن میں ہونگے پھر گِلہ نہیں کرنا، بانی پی ٹی آئی نے غلامی قبول نہیں کی ہم بھی غلامی قبول نہیں کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بی بی فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی کے شکوے نہیں بنتے، ہر دفعہ ایف بی آر ٹارگٹ پورے نہیں کرتا، ٹیکس کلیکشن کا ٹارگٹ صوبوں کو دے دیا جائے، لگتا ہے ایف بی آر اب بھی ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 8 فیصد ہے، بجلی کے شعبے میں یہ شرح 54 فیصد بڑھی ہے، عوام کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑ سکتے، بجٹ میں صرف اخراجات ہی اخراجات نظر آ رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، لوگوں کو نوکریاں کیسے دیں گے؟وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

قومی خبریں سے مزید