کیا ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات بڑھنے لگے ہیں؟ دو سینئر رہنما آمنے سامنے آگئے۔
خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال نے ایک دوسرے پر وارپر لفظی وار کیے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پارٹی کا سب سے بڑا عہدے دار کارکن ہے، آپ کو وہ نہیں ملے گا جو آپ چاہیں گے، وہ ملے گا جو تنظیم چاہے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جس لیڈر کا کردار نہیں وہ قوم کا کیس نہیں لڑ سکتا ہے، ورنہ ہم بانی ایم کیو ایم کو نہیں چھوڑتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن سے حقوق لینے ہیں انہی سے میری پارٹی کا سربراہ ایکسٹینشن لے گا تو حقوق نہیں ملیں گے۔ ایسے عہدوں کی ضرورت نہیں جن سے قوم کا فائدہ نہ ہوسکے۔