• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر سلگ رہا ہے اور نادان دوست نفرتوں کی آگ کو بجھانے کے بجائے مزید بھڑکا رہے ہیں۔ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ گفت و شنید کیلئے نہایت منجھے ہوئے، تجربہ کار افراد کے بجائے وہ لوگ بروئے کار لائے جارہے ہیں جو زمینی حقائق اور اس خطے کے مزاج سے ناآشنا ہیں۔چونکہ سوشل میڈیا کے محاذ پر سب سے زیادہ پروپیگنڈا مہاجرین کی نشستوں پر ہورہا ہے تو یہیں سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ’’ایکس ‘‘اکائونٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی جسے مشاہد حسین سید اور پھر حامد میر نے ری ٹویٹ کیا ۔اس میں کہا گیا’’1947ءسے 1974ءتک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12نشستیں موجود نہیں تھیں پھر بھی مسئلہ کشمیر زندہ تھا۔1974ءسے 2026ء تک یہ نشستیں موجود ہیں تو کیا اس دوران مسئلہ کشمیر حل ہو گیا؟حقیقت یہ ہے کہ ان نشستوں کے ہونے یا نہ ہونے سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ ان نشستوں نے سیاسی انجینئرنگ، اقتدارکے توازن پر اثراندازی اور مخصوص طبقات کو نوازنے کا ذریعہ ضرور فراہم کیا۔اگر ان نشستوں کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا تو نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کیا جائے۔یہ بارہ نشستیں صرف سیاسی جوڑ توڑکیلئے رکھی گئی ہیں۔ مسئلہ کشمیر سے انکا کوئی تعلق نہیں‘‘۔

محولا بالا دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیا اور کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہاں میں ہاں ملائی۔آزاد کشمیر کی پہلی چھ رُکنی کابینہ جو 1947ء میں تشکیل دی گئی،اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔شہید مقبول بٹ اور کے ایچ خورشید نے مہاجر نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا۔ آزاد کشمیرمیں پہلی بار الیکشن فوجی حکمران ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت’’آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل‘‘تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،اس میں12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جوقائداعظم کے رفیق خورشید حسن خورشید نے جیتاجو کے ایچ خورشید کے نام سے مشہور ہیں۔اس وقت 6صدارتی امیدواروں میں سے 4مہاجر تھے۔ بعد ازاں 1974ءمیں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کیلئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس کابینہ میں بھی کئی مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔کشمیری مہاجرین نے بھارتی تسلط سے نکل کر ہجرت کرنے کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔

ان کو نمائندگی سے محروم کرنا کشمیر کاز سے بے وفائی ہوگی مگر یہ فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام اور انکے منتخب نمائندوں نے کرنا ہے۔وفاقی وزرا کو ان نشستوں کا دفاع کرنے یا اس پر اصرار کرنے کی ضرورت نہیں ۔اگر وہاں کے لوگ ان نشستوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اس نعرے پر الیکشن لڑیں اور قانون ساز اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے فیصلہ کرلیں۔جس طرح ہمارے ہاں نظام کی تبدیلی کیلئےآئینی اصلاحات متعارف کروائی جاتی ہیں، اسی طرح یہ راستہ آزاد کشمیر کے لوگوں کیلئےبھی کھلا ہے۔

بعض احباب ان خدشات کا اظہار کرتے ہیں کہ کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت اب ان شدت پسند قوم پرستوں کے ہاتھوں میں ہے جو کسی بات پر اتفاق نہیں کریں گے۔مہاجرین کی 12نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ مان لیا جائے گا تو پھر وہ معاہدہ کراچی کی منسوخی کی بات کریں گے جسکے تحت حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کا انتظام سنبھال رکھا ہے۔ممکن ہے یہ اندیشہ ہائے دور دراز حقیقت پر مبنی ہوں کیونکہ مذاکرات کے دوران آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان کا حلف نامہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ’’کشمیر کے پاکستان سے الحاق کا وفادار رہوں گا‘‘کے الفاظ حذف کئے جائیں۔ مگر ایسی صورت میں بھی فریق ثانی کی بدنیتی اجاگر کرنےکیلئے اتمام حجت ضروری ہے ۔خفیہ مذاکرات کے بجائے علانیہ بات چیت کی جائے اور کشمیری عوام کو بتایا جائے کہ عوام کی طاقت استعمال کرتے ہوئے انتشار پھیلانے والوں کا حقیقی ایجنڈا کیا ہے۔مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ سیاسی لوگ جو اس خطے کے مزاج اور نفسیات کو سمجھتے ہیں ،ان سے استفادہ کیا جائے مثال کے طور پر جب سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے تو مظفر آباد جاکر وہاںنظام کو سمجھنے اور قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔میجر(ر)خرم حمید روکھڑی جو وزیراعظم کے مشیر خاص تھے ،انہوں نے آزادکشمیر میںمقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور عام آدمی کے مسائل حل کرنےکیلئے ایسے منصوبے شروع کئے جو مکمل ہوجاتے تو عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کی نوبت ہی نہ آتی۔بعد ازاں بھی متواتر ان سے رابطہ رہا۔حقیقت یہ ہے کہ خرم حمید روکھڑی میانوالی کے قبائلی پس منظر سے تعلق رکھنے کے باعث نہ صرف آزادکشمیر کے لوگوں کی نفسیات کو سمجھتے ہیں بلکہ تحریک انصاف کے ایک سرکردہ سابق رہنما کی حیثیت سے سیاسی نزاکتوں سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔ گاہے حیرت ہوتی ہے کہ اس طرح کے نابغہ روزگار افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس طرح کشمیری قیادت جو اس احتجاجی تحریک کے پس منظر سے واقف ہے، انکی خدمات حاصل کی جائیں۔ عام حالات میں تو شاید کسی اور صوبے سے پولیس کا سربراہ تعینات کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر کشیدگی کے اس ماحول میں پنجاب کے ایک ایسے پولیس افسر کو آئی جی لگانا جس کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہے کہ ایک ہزار بندہ مار دیا جائے تو نظام ٹھیک ہوسکتا ہے،میری دانست میں نہایت غلط فیصلہ ہے۔

تازہ ترین