• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد ہوتی ہے۔ جو معاشرے اپنے نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق اور ہنرمندی پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہی مستقبل کی عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر ایسے منصوبے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں، سیاسی تبدیلیوں اور حکومتی ترجیحات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سمبڑیال میں قائم ہونیوالی یونیورسٹی آف اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز (UAEET) بھی ایک ایسا ہی منصوبہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے تکمیل کا منتظر ہے۔سیالکوٹ پاکستان کی برآمدی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر صنعتی شعبوں میں سیالکوٹ کا نام عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہر ملک کیلئے قیمتی زرِ مبادلہ کمانے والے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اسی صنعتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی یونیورسٹی کے قیام کا تصور پیش کیا گیا جو جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے صنعتوں کو عالمی معیار کی افرادی قوت فراہم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مقامی کاروباری برادری بھی ابتدا سے اس منصوبے کی حامی رہی ہے۔اس منصوبے کی بنیاد 2005میں اُس وقت رکھی گئی جب معروف سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی سربراہی میں پاکستان میں جدید طرز کی تین عالمی معیار کی ٹیکنالوجی یونیورسٹیوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان میں سے ایک یونیورسٹی سمبڑیال کیلئے مختص کی گئی۔ پنجاب حکومت نے اس مقصد کیلئے تقریباً 500 ایکڑ زمین مقامی لوگوں سے خرید کر حاصل کی تاکہ یہاں ایک جدید تعلیمی ادارہ قائم کیا جا سکے جو نہ صرف سیالکوٹ بلکہ نارووال، گجرات، وزیرآباد یعنی مجموعی طورپر گوجرانوالہ ڈویژن کے لاکھوں نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔تاہم 2008 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ منصوبہ عملی طور پر پس منظر میں چلا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ منصوبے پر کام رک گیا اور وہ خواب جو اس خطے کے نوجوانوں کیلئے دیکھا گیا تھا، ادھورا رہ گیا۔ اس دوران خریدی گئی زمین ویران پڑی رہی اور بعض عناصر نے اس پر قبضے کی کوششیں بھی کیں۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ راقم ، میرے بھائی محمد اعظم نوری گھمن اور مقامی وکلاء برادری نے اس قومی اثاثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر اس وقت یہ کوششیں نہ کی جاتیں تو ممکن تھا کہ منصوبے کیلئے مختص زمین بھی ضائع ہو جاتی۔2021 میں اس منصوبے کو نئی زندگی ملی جب ڈاکٹر عطا الرحمٰن اور راقم کی کاوشوں سے یونیورسٹی آف اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز سمبڑیال کے قیام کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح ہوا اور تعمیراتی کام تیزی سے آگے بڑھا۔ ایک چینی کمپنی نے مختصر عرصے میں یونیورسٹی کے بڑے حصے کا ڈھانچہ مکمل کر دیا۔ اس پیش رفت نے علاقے کے نوجوانوں میں امید کی نئی کرن پیدا کی۔بدقسمتی سے 2023 کے بعد فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں تقریباً رک چکی ہیں۔ آج نامکمل عمارتیں اس حقیقت کی خاموش گواہ ہیں کہ پاکستان میں طویل المدتی تعلیمی منصوبے کس طرح مالی اور انتظامی عدم توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی کی تعمیر کا نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کا بھی ہے۔ حالیہ عرصے میں گوجرانوالہ میٹرو منصوبے کیلئے تقریباً 100 ارب روپے مختص کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں، جبکہ سمبڑیال یونیورسٹی جیسے منصوبے کیلئے مطلوبہ فنڈز کا حجم اس کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اربوں روپے نقل و حمل کے منصوبوں پر خرچ کیے جا سکتے ہیں تو جدید تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ایک ایسے ادارے کیلئے وسائل کیوں فراہم نہیں کیے جا سکتے جو آنیوالی نسلوں کی معاشی اور علمی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔سیالکوٹ اور اس کے گردونواح کے نوجوانوں کیلئے یہ یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ مستقبل کے مواقع کا دروازہ ہے۔ جدید صنعتوں کو ہنر مند انجینئرز، ٹیکنالوجسٹ اور محققین درکار ہیں۔ اگر یہ ادارہ مکمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف مقامی صنعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پاکستان میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلیے بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم میسر آئیگا۔علاقے کے موجودہ رکنِ قومی اسمبلی کی حیثیت سے راقم اس منصوبے کے لیے مسلسل آواز بلند کرتارہا ہے۔ قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن کے مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اٹھا یا ہے، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرا ئی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ چیمبر آف کامرس بھی متعدد بار حکومت سے اس منصوبے کی جلد تکمیل کا مطالبہ کر چکا ہے۔سمبڑیال کے عوام کا سوال سادہ مگر اہم ہےکہ : کیا جدید اور معیاری تعلیم صرف بڑے شہروں کا حق ہے؟ کیا چھوٹے شہروں اور صنعتی علاقوں کے نوجوان ایسے اداروں کے مستحق نہیں جو انہیں عالمی معیار کی تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کر سکیں؟حکومتوں کی اصل پہچان ان منصوبوں سے ہوتی ہے جو آنیوالی نسلوں کے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ سڑکیں، پل اور میٹرو سسٹم اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن قوموں کی اصل تعمیر یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز اور تعلیمی اداروں سے ہوتی ہے۔ سمبڑیال یونیورسٹی بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو مکمل ہونے کی صورت میں پورے خطے کی علمی، صنعتی اور معاشی ترقی کا محرک بن سکتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت سیاسی وابستگیوں اور انتظامی تاخیر سے بالاتر ہو کر اس منصوبے کیلئے فوری فنڈز جاری کرے، تعمیراتی کام دوبارہ شروع کروائے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے۔ یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے خواب، امیدیں اور مستقبل ہے۔ تاریخ انہی فیصلوں کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں۔ سمبڑیال یونیورسٹی بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جس کا وقت آ چکا ہے۔

(صاحبِ تحریر ممبر قومی اسمبلی ہیں)

تازہ ترین