• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’امریکا ایران معاہدہ نیتن یاہو کی ذاتی شکست ہے‘: اسرائیلی تجزیہ کار کا دعویٰ

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو---فائل فوٹو
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو---فائل فوٹو

معروف اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار گیڈون لیوی نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو اسرائیل اور بالخصوص اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ’ذاتی شکست‘ قرار دیا ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے گیڈون لیوی نے کہا کہ ایران کا معاملہ نیتن یاہو کا ’زندگی بھر کا منصوبہ‘ رہا ہے، تاہم موجودہ معاہدے میں اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جس کے باعث تل ابیب کے پاس صرف تخریبی کارروائیوں کا راستہ بچا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے اسی نوعیت کی کوششوں کا حصہ تھے، ان کارروائیوں کے باوجود اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس پورے عمل میں اسرائیل کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اسرائیلی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کو کس حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ نیتن یاہو ایسے کسی بھی جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے بنیادی اہداف پورے نہ کرے۔

گیڈون لیوی نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا امتحان لبنان کی صورتِ حال ہو گی۔

ان کے مطابق ایران لبنان کی صورتِ حال کو معاہدے کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کی لبنان میں موجودگی جنگ بندی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ 

گیڈون لیوی نے کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود رہیں گی اور ان کا انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا، تب تک مکمل جنگ بندی کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسرائیلی موجودگی کے خلاف مزاحمت جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید