چکوال میں 10 جون کی رات ڈکیتی کی مسلسل چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی پے در پے وارداتوں نے مقامی پولیس کی صلاحتیوں پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
معصوم حانیہ کے جاں بحق ہوجانے کے بعد سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی جانب سے غلطی کا اعتراف بھی کر لیا گیا۔ اب متاثرہ خاندان کا سوال یہ ہے کہ ننھی حانیہ کو انصاف مل پائے گا یا نہیں؟ شہری پوچھتے ہیں شہر کا امن و امان لوٹانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
دس جون کی رات 2 مسلح ڈاکوؤں نے 4 گھنٹوں میں چکوال میں ایک نہیں 5 مختلف مقامات پر چھوٹی بڑی وارداتیں کیں، آخری واردات عین سی سی ڈی تھانہ کے باہر ہوئی جہاں سی سی ڈی اہلکار کے ہاتھوں بنا سوچے سمجھے فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ حانیہ عدیل نے جان گنوا دی، اس کا بھائی اور والد اب بھی زیر علاج ہیں۔
ڈاکوؤں نے شہر کی مصروف ترین شاہراہ کالج روڈ پر 8 بجے ایک دکان پر ڈاکہ ڈالا، وہاں سیف سٹی کے کیمرے بھی نصب ہیں، اس کے بعد وہ مزید چار گھنٹے مختلف مقامات پر وارداتیں کرتے رہے۔
حانیہ عدیل کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں بھی درج کیا گیا ہے، پہلے اس میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، یعنی غلطی یا لاپرواہی کی وجہ سے کسی کی جان چلے جانا تاہم ذرائع کے مطابق بعد ازاں مدعیان کے اصرار پر اس میں دفعہ 302 بھی شامل کرلی گئی ہے۔
سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر گئے، غلطی کا اعتراف کیا اور ادارے میں ایس اوپیز مزید سخت ہونے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
متاثرہ خاندان اور شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا روایتی محکمانہ انکوائریاں مظلوم خاندان کو انصاف دلا پائیں گی؟ اگر شہر میں کروڑوں روپے مالیت کا سیف سٹی پراجیکٹ فعال تھا، تو چار گھنٹے تک ڈاکوؤں کو کھلی چھوٹ کس نے دی؟ اور سب سے اہم یہ کہ کسی تصدیق کے بغیر سی سی ڈی اہلکاروں کو اندھا دھند گولی چلانے کی اجازت کس قانون کےتحت دی گئی؟ کیا حانیہ کو انصاف ملے گا یا یہ کیس بھی ماضی کے سانحات کی طرح فائلوں کی نذر ہو جائے گا؟
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چکوال جسے امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا سیف سٹی فعال ہونے کے باوجود اب ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے اور مقامی پولیس صورت حال پر قابو پانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتی، ان کی حکومت سے اپیل ہے کہ صور ت حال کا فوری نوٹس لیا جائے۔