• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرچرڈ اسکیم کا 12 کنال پلاٹ کیس، فریقین میں سخت جملوں کا تبادلہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

وفاقی آئینی عدالت میں آرچرڈ اسکیم کے 12 کنال پلاٹ کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران کیس کے مختلف پہلوؤں پر فریقین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2010ء میں پلاٹ الاٹ ہونے کے صرف 3 ماہ بعد الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی تھی۔

نظرِ ثانی کی درخواست پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرِ ثانی میں صرف فیصلے کی غلطی کی نشاندہی کی جاتی ہے، اب ہم پورا کیس دوبارہ کیسے کھول سکتے ہیں؟ قانون کی ایک حد ہوتی ہے، یہ کوئی بادشاہت نہیں۔

سماعت کے دوران پلاٹ مالک کے وکیل نے کہا کہ میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں، اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ نے بھی جائیداد منسوخی کے بعد خریدی تھی۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 1 ارب روپے مالیت کا پلاٹ ہے جبکہ 12 کنال کے بدلے 1 روپیہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔

سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ میں جس نے جو کرنا تھا وہ کر چکا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کسی کا سر قلم کر دیا تھا؟ کسی نے کرپشن کی ہے تو پکڑیں، آپ کا گھر ہم نے تو ٹھیک نہیں کرنا۔

سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا کوئی حکم موجود نہیں تھا، اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہر کام کے لیے عدالتی حکم ضروری نہیں ہوتا۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید