پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 903 ارب 46 کروڑ روپے ہے۔ جاری اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 962 ارب 93 کروڑ لگایا گیا ہے۔
ترقیاتی بجٹ کا حجم 752 ارب ہوگا۔ شعبہ تعلیم کیلئے 750 ارب روپے، صحت کیلئے 500 ارب 62 کروڑ رپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پینشن میں ساڑھے تین فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔
بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس میں رعایت، اور زرعی ٹیکس میں اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کیلئے 803 ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو 4 ہزار 390 ارب 94 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ صوبائی آمدن کا ہدف 1209 ارب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی کیلئے 507 ارب، زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی منصوبوں کیلئے 132 ارب 54 کروڑ روپے، امن و امان کیلئے 252 ارب، سڑکوں کی مرمت اور بحالی کیلئے 290 ارب رکھے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کیلئے 55 ارب، محکمہ ماحولیات کیلئے 17 ارب اور کھیلوں کےلیے 9 ارب 53 کروڑ رکھے گئے ہیں۔ اکانومی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے 42 ارب، ہنرمند افراد کی تربیت کیلئے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بسیں، کسان کارڈ، صحت کارڈ اور مزدور کارڈ جیسی اسکیمیں جاری رہیں گی۔
صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بجٹ ٹیکس فری اور عوام دوست ہے۔