• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کا عدالتوں کو غیرقانونی بےدخلی ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کا حکم

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ملک بھر کی عدالتوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی بےدخلی ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

عدالت عظمیٰ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بےدخل کرنے سے متعلق فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے غیر قانونی بےدخلی ایکٹ سے متعلق کیسز نمٹانے کیلئے ہدایات جاری کردیں۔

عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو عمل درآمد کےلیے ارسال کرنے کا حکم دے دیا۔ 

5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال مندوخیل نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل، قانونی تقاضوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ فوری اور کم خرچ انصاف آئینی تقاضا ہے، غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے۔ غیر قانونی بےدخلی ایکٹ کے تحت کیسز 60 دن میں نمٹائے جائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عمل درآمد یقینی بنائیں، کیسز میں تاخیر کی صورت میں وجوہات ریکارڈ کرنا لازمی ہوگا۔ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی درخواست پر از خود تاخیر کو معقول وجہ نہیں سمجھا جائے گا۔

حکم نامہ میں کہا گیا کہ عبوری حکم چیلنج ہونے کے باوجود ٹرائل جاری رکھا جائے گا، حکمِ امتناع کے بغیر کارروائی نہیں رکے گی۔ آرٹیکل 24 کے مطابق کسی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ کم خرچ اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے، حکومت ایسی پالیسی اور انتظامی اصلاحات اختیار کرے جن سے انصاف سستا اور تیز ہو۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے لیے ضروری احکامات جاری کر سکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر عمل درآمد تمام انتظامی و عدالتی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائیکورٹس سمیت تمام عدالتی حکام سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کے پابند ہیں۔

قومی خبریں سے مزید