• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب حکومت کا فنانس بل جاری، گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں بڑا اضافہ

پنجاب حکومت نے مالی سال کا فنانس بل جاری کر دیا، لاہور سے جاری فنانس بل کے مطابق پنجاب میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں 20 سال بعد بڑا اضافہ کیا گیا ہے، 1000 سی سی سے زائد کمرشل و نجی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ 

فنانس بل کے مطابق  ہوٹل میں کریڈٹ یا ڈیبیٹ کارڈ سے پیمنٹ پر سیلز ٹیکس 8 فیصد لاگو ہوگا، عام سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی گئی۔ 

فنانس بل کے مطابق فارن ایکسچینج کمپنیوں اور منی چینجرز کی سروسز پر 3 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ پنجاب حکومت نے کچی کپاس پر عائد کاٹن فیس کو ختم کر دیا، نئے کاروبار کو پہلے 6 ماہ تک ٹیکس قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ 

فنانس بل کے مطابق پراپرٹی ٹیکس دیر سے دینے پر ماہانہ جرمانہ ختم کر دیا ہے اور اب سہ ماہی بنیادوں پر ریلیف ملے گا، بغیر رجسٹریشن گاہک کو گاڑی ڈیلیور کرنے پر شوروم مالکان پر بھاری جرمانہ ہوگا۔ 

فنانس بل کے مطابق تمام کار ڈیلرز حکومت کے ود ہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے پابند قرار دیے گئے ہیں، نان رجسٹرڈ تاجروں کو سرکاری ٹھیکے، لائسنس یا این اوسی جاری نہیں ہوں گے، پی آر اے قوانین کی خلاف ورزی اور انوائس نہ دینے پر جرمانوں میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔ 

فنانس بل کے مطابق کمپنیوں کے لیے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ 5 سے 10 لاکھ روپے تک مقرر کیا گیا ہے۔ مسلسل دو ماہ ریٹرن جمع نہ کرانے والے تاجر ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے باہر ہوں گے۔

فنانس بل کے مطابق محکمہ آبپاشی نے فصلوں اور باغات کے لیے "آبیانہ" کے نئے نرخ مقرر کر دیے۔ پنجاب میں خریف کی فصلوں کے لیے آبیانہ کی شرح 1650 روپے فی ایکڑ مقرر کی گئی ہے، ربیع کی فصلوں کے لیے پانی کی شرح 850 روپے فی ایکڑ طے کر دی گئی۔ 

فنانس بل کے مطابق صوبے بھر میں منظور شدہ باغات کے لیے آبیانہ 2000 روپے فی ایکڑ سالانہ ہوگا، سرکاری لفٹ اریگیشن کے ذریعے پانی حاصل کرنے والے کاشتکاروں کے لیے نیا ریٹ لاگو ہوگا، سرکاری لفٹ اریگیشن کے لیے آبیانہ کی شرح 2250 روپےفی ایکڑ سالانہ مقرر کیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید