• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دم جرمانہ 5 لاکھ سے 1 کروڑ کرنا درست نہیں، نوید قمر

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ایک دم جرمانہ 5 لاکھ سے 1 کروڑ کرنا درست نہیں ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کسٹمز جرمانوں، سزاؤں سے متعلق اختیارات وفاقی حکومت سے بورڈ کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی۔

ایف بی آر حکام نے بریفنگ دی اور کہا کہ کسٹمز بورڈ کو جرمانے معاف کرنے کے ساتھ انہیں کم کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

حکام کے مطابق جرمانوں کےخلاف اپیل کاطریقہ کار بورڈ قواعد کےذریعےمقرر کرےگا، بورڈ مخصوص کسٹمز اسٹیشنز، اشیا کو بعض قوانین سےمستثنیٰ قرار دے سکے گا۔

نوید قمر نے کہا کہ یہ اختیار نہ کسٹم کے پاس ہونا چاہیے نہ ایف بی آر کے پاس، اس پر ایف بی آر حکام نے کہا کہ پھر یہ اختیار منسٹر انچارج کے پاس کردیتے ہیں۔

دوران اجلاس تجویز دی گئی کہ کمیٹی کی کسٹمز بورڈ کو نیلامی کےلیے نجی افراد یا اداروں کی خدمات لی جائیں، پہلے صرف کسٹم آکشن کرسکتا ہے، اب تھرڈ پارٹی کو دینے کی تجویز ہے۔

ایف بی آر حکام نے کہا کہ بندرگاہ پر سامان کی تاخیر پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے، سامان کی تاخیر پر امپورٹرز کو ڈیمرج چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں۔

حکام کے مطابق تجویز ہے کہ سامان کی تاخیر پر ٹرمینل آپریٹر پر جرمانہ 5 لاکھ کے بجائے 1 کروڑ کیا جائے، زیادہ تر کیسز میں ٹرمینل آپریٹر کی وجہ سےتاخیر ہوتی ہے، عام طور پر سامان اٹھانے میں تاخیر کے ذمہ دار امپورٹرز نہیں ہوتے۔

اس پر نوید قمر نے کہا کہ ایک دم جرمانہ 5 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کرنا بھی درست نہیں ہے، ٹرمینل آپریٹر کو جرمانہ ادا کرنے سے پہلے اسے ایک بار سنا جائے اور اس کےلیے کوئی نیوٹرل فورم بنایا جاسکتا ہے۔

ایف بی آر حکام نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ کوئی کمیٹی یا فورم بنانے کی طرف نہیں جاتے ہیں، اس سے کہیں یہ سارا کام ہی نہ خراب ہوجائے۔

حکام نے کہا کہ ٹرمینل آپریٹر پر ایک کروڑ کی بجائے جرمانہ 50 لاکھ کر دیتے ہیں، جس کے پاس جرمانے کے خلاف اپیل کا حق موجود رہے گا۔

قائمہ کمیٹی خزانہ نے ٹرمینل آپریٹر کو 50 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کی تجویز منظور کرلی، ساتھ ہی اسمگل شدہ سامان پولیس سے کسٹمز کے حوالے کرنے کی تجویز موخر کردی۔

اس موقع پر بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کسٹمز والے کہہ رہے ہیں کہ یہ مال نہ تمہارا ہے، یہ ہمارا ہے۔

قومی خبریں سے مزید