• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرپشن معاملات پر معطل این سی سی آئی اے کے سابق ڈی جی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

عمارت اسلام آباد ہائی کورٹ - فوٹو: فائل
عمارت اسلام آباد ہائی کورٹ - فوٹو: فائل

کرپشن معاملات پر معطل این سی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وقارالدین سید نے انکوائری افسر پر جانبداری کا الزام کا لگاتے ہوئے انکوائری افسر کی تبدیلی اور ریکارڈ کی فراہمی تک انکوائری کی کارروائی، گواہان کے بیانات اور رپورٹ روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں دفاع کیلئے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا اور انکوائری کارروائی منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے۔

سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) وقار الدین سید نے اپنے خلاف وزیراعظم کی منظوری سے شروع کی گئی محکمانہ انکوائری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انکوائری کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے وفاق، وزارت داخلہ اور انکوائری افسر کو فریق بناتے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3 جون 2026 کو چارج شیٹ اور الزامات کی تفصیلات جاری کیں جبکہ چارج شیٹ انہیں 5 جون کو موصول ہوئی۔

درخواست گزار کے مطابق انہیں تحریری جواب جمع کروانے کے لیے 14 دن کا قانونی وقت دیا جانا چاہیے تھا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الزامات کے دفاع کے لیے متعلقہ ریکارڈ، دستاویزی ثبوت اور رپورٹس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم بارہا مطالبے کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ تحریری جواب جمع کرانے کی قانونی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی گواہان کو بیانات ریکارڈ کرانے کے نوٹس جاری کر دیے گئے جو غیرقانونی اور جلد بازی پر مبنی اقدام ہے۔

درخواست کے مطابق انکوائری افسر کی تبدیلی کی درخواست بھی زیر التواء ہے لیکن اس کے باوجود کارروائی جاری رکھی گئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ انکوائری کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر کو مقام کے طور پر منتخب کرنا دباؤ ڈالنے اور کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدالت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو انکوائری افسر کی تبدیلی کی درخواست پر مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دے جبکہ آرٹیکل 10 اے کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدار انکوائری افسر مقرر کرنے اور غیر جانبدار مقام پر انکوائری کروانے کا حکم بھی جاری کیا جائے۔

قومی خبریں سے مزید