امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں 225 روپے پر فکس ہونی چاہئیں اور یہ 25 کروڑ لوگوں کے دل کی آواز ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 225 روپے پر لائی جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کو فکس کرنے سے معیشت کی صورتِ حال بہتر ہو سکتی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ جنگ کے حالات ختم ہو چکے ہیں اور عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، لاک ڈاؤن ختم کیا جائے اور قیمتیں کم کی جائیں۔
اُنہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب 10 یا 20 روپے پیٹرول کی کمی سے کام نہیں چلے گا، کل مہنگائی اور لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا اور اگر حکومت نے قیمتیں کم نہ کیں تو چاروں صوبوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ شہباز شریف 41000 روپے میں کسی ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک دھوکا ہے۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے حوالے سے کہا کہ حکمراں آئی ایم ایف کے باعث بوجھ عوام پر کیوں ڈالتے ہیں؟ جبکہ آئی ایم ایف حکمرانوں کو اپنے خرچے کم کرنے کا بھی کہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہی حالات میں 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا، چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدی گئی، ارکانِ اسمبلی کی تنخواہیں 500 فیصد بڑھائی گئیں جبکہ سرکاری ملازمین کی صرف 7 فیصد بڑھائی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت میں بیٹھے افراد کی آئی پی پیز ہیں، موٹر سائیکل چلانے والے 400 ارب روپے لیوی دے چکے ہیں جبکہ جاگیرداروں سے صرف 10 سے 12 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں 1800 ارب روپے حکومت وصول کر چکی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت بھی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔
انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور ایران کو بھی شامل کیا جائے۔