حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جو وعدہ قوم سے کیا تھا، الحمدللہ وہ پورا کرنے جا رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بےمثال مظاہرہ کیا۔ مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔
شہباز شریف کا مزید کہنا ہے کہ اس بحران کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے وسائل سے تیل کی قیمتوں میں جس قدر ہوسکا کمی لانے کی کوشش کی اور جس قدر ممکن ہوا عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کےلیے اقدامات کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئے گی وہ من و عن عوام کو منتقل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحران کے پورے عرصے میں حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا گیا، بحران کے پورے عرصے میں ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی، عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا، اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جو ایک تاریخی دستاویز ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے یہ عزت و اکرام اپنی کمال مہربانی سے تمام پاکستانیوں کو عطا فرمائی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں، ان کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت یہ امن معاہدہ ممکن ہوا، اسحاق ڈار، محسن نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ اور کفایت شعاری سے بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کیے، ملک بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا، خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات لیے جا رہے تھے، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موثر اقدامات کی بدولت نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں، نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا، جس پر صوبائی وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں۔