بنوں کے علاقے مرکہ بیرا میں 2 دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔
اس حوالے سے ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے بتایا ہے کہ دھماکوں کی زد میں 1 وین اور 1 گاڑی آئی ہے، مسافر وین گاؤں ہاتھی خیل سے بنوں آ رہی تھی۔
یاسر آفریدی نے بتایا ہے کہ پہلے دھماکے میں مسافر وین میں سوار 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ کچھ دیر بعد دوسرا دھماکا ہوا، جس میں امدادی کارروائی کرنے والے 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ڈی پی او بنوں نے مزید بتایا ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یاسر آفریدی نے یہ بھی بتایا ہے کہ دھماکا خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بنوں میں آئی ای ڈی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی عالمی سفارتی کامیابیوں اور امن کے فروغ کی کوششوں کو دہشت گرد متاثر کرنا چاہتے ہیں، پاکستان علاقائی و عالمی امن کی حمایت جاری رکھے گا اور دہشت گردوں کو شکست دی جائے گی۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہبازشریف نے بنوں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔
شہبازشریف نے دھماکے کے شہداء کے بلندی درجات، لواحقین کے لیے صبرِ اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحتیابی کی دعا کی اور متعلقہ حکام کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کرنے اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کر دی۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف گھناؤنی سازش ہے، ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کرسکتیں۔
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی، ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔