• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! سب سے پہلے نئے وفاقی بجٹ پر ایک نظر ڈالتےہیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں کل اخراجات 18771ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جس میں سے قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے 8054ارب روپے۔ قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے3675ارب روپے ۔ دفاعی اخراجات 3000ارب روپے۔سول انتظامیہ کیلئے 1071 ارب روپے۔ PSDP کیلئے ایک ہزار ارب روپے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838ارب روپے، ٹرانسپورٹ مواصلات کیلئے 365ارب روپے۔توانائی وبجلی کیلئے116.2ارب روپے۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے صرف46ارب روپے۔ اسکول وکالج کی تعلیم کیلئے26.3ارب روپے۔ صحت کیلئے25.1ارب روپے۔دانش اسکولز کیلئے 22ارب روپے جسکی ضرورت ہی نہیں ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 3.6ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم کے بجٹ میں ہر بچے کی تعلیم کیلئے سالانہ صرف136روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی بجٹ کے اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو عام آدمی کیلئے ریلیف کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے ہیں صرف انہیں بھکاری بنانے کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کو بڑھایا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس بجٹ میں عوام کیلئے کچھ نہیں ہے لیکن امیروں کو ریلیف ضرور دیا گیا۔ حکمران طبقات نے اپنے لئے مزید وسائل مختص کر لئے ہیں جوغریب عوام کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ بجٹ میں عوام کیلئے کوئی ریلیف نظر نہیں آیا اور نہ ہی حکومت ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرسکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یو این کے طے کردہ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی کل جی ڈی پی کا کم از کم 5سے 6فیصدصحت ۔ تعلیم کے شعبے کیلئے 4سے 6فیصد خرچ کرنے کی سفارش کرتا ہے جبکہ پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP)کا تقریباً 0.8فیصدسے 0.9فیصد تعلیم پر اور 0.8فیصد کے لگ بھگ صحت پر خرچ کر رہا ہے۔ یہ اعداد شمار عالمی معیار سے بہت کم ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں تعلیم اور صحت کا شعبہ شدید متاثر ہے۔ اگر حکومت پاکستان صحت اور تعلیم کے شعبے پر جی ڈی پی کا کم از کم 5فیصد خرچ کرنا شروع کر دے تو ان دو نوں بنیادی شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح حکومت غریبوں کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کے بجائے انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے چند ہزار روپے دے دیتی ہے جس سے غربت میں کمی آنے کے بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس معمولی رقم سے ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا، بلکہ 60فیصد حصہ غلط استعمال ہوتا ہے ۔اگر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بند کرکے حکومت ان پیسوں سے یعنی838ارب روپے کی لاگت سے نئی صنعتیں لگانا شروع کر دے تو آئندہ چند سالوں میں غربت کا شکار افراد کو باعزت روز گار مہیا کرکے انہیں پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔اگر چہ وفاقی بجٹ حکومت کی نظر میں بہت اچھا ہے اور متوازن ہے لیکن عوامی نقطہ نظر میں دیکھا جائے تو اس مرتبہ بھی وفاقی بجٹ میں غریب عوام کیلئے سوائے مزید قربانیوں کے تقاضے کے اورکچھ نہیں ہے۔

دوسری جانب بجٹ پیش کرنے کے بعد اب وزیراعظم سے لیکر وزرا، مشیروں اور خصوصی معاونین تک ہر کوئی اس بات کی وضاحتیں دیتا دکھائی دے رہا ہے کہ اس بجٹ میں عوام کیلئے ریلیف کے کون کون سے پہلو موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریلیف کے یہ سارے پہلو صرف حکومت سے وابستہ لوگوں کیلئے دکھائی دے رہے ہیں، معاشیات اور مالیات کے ماہرین اور عوام کو ایسا کوئی پہلو نظر نہیں آ رہا، اور یہ کوئی نئی بات نہیں، پاکستان میں گزشتہ نصف دہائی یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے۔ وزیر خزانہ تو شاید زمینی حقائق سے واقف ہی نہیں ہیں۔ انھیں بیرونِ ملک سے ایک خاص مقصد کیلئے لایا گیا ہے اور ممکن ہے یہ مقصد پورا ہو جانے کے بعد وہ پھر باہر چلے جائیں۔ فی الحال وہ عوام کو یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ مہنگائی کے فوائد کیا کیا ہیں اور حکومت عوام کیلئے کون کون سے عظیم کارنامے سر انجام دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت میں استعمال ہونے والی ویلیو ایڈڈ مشینری کی درآمد پر کسٹمز، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ زرعی کریڈٹ میں15فیصد اضافہ ہوا ہے، زراعت کی فنانسنگ 2000ارب روپے کو عبور کر جائیگی، حکومت نے زرخیزی اسکیم شروع کی جو بہت اہم ہے۔ وزیر خزانہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ ہاتھی کے وہ دانت ہیں جو دکھانے کیلئے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہونا چاہیے لیکن سیاسی قیادت کی عاقبت نااندیشی کے باعث ہم اس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ضرورت کیلئے گندم تک بیرونِ ملک سے منگوانا پڑتی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس قسم کے دعوے مسلسل کئے جا رہے ہیں لیکن اسکے باوجود نہ تو کہیں استحکام دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی ترقی۔ آئے روز اعلانات ہوتے ہیں کہ فلاں ملک اتنے ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری فلاں فلاں صنعت میں کرے گا لیکن بات اعلانات سے آگے بڑھتی ہوئی کبھی دکھائی نہیں دی۔ اب وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے مقامی سرمایہ کار سامنے آئیں گے تو باہر سے بھی سرمایہ آنا شروع ہوگا۔ بات سیدھی سی ہےجب آپ سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول ہی نہیں بننے دے رہے تو پھر سرمایہ کار سامنے کیسے آئے؟دوسرایہ کہ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی آبادی سے زیادہ بڑا مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کا حد درجہ بے حس ہونا ہے، یعنی ایک طرف ماہانہ لاکھوںروپے تنخواہ پانیوالے سرکاری افسروں کو مکان، گاڑی، پٹرول، بجلی اور ہر قسم کی سہولت مفت مہیا کی جا رہی ہے اور دوسری جانب2 ،2 نوکریاں کرکے 40،50 ہزار ماہانہ کمانے والوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ لہٰذا عوام کو اپنے حالات میں بہتری لانے کیلئے کوئی ایسا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا جو حکمران طبقات میں عام آدمی کیلئے درد کا احساس پیدا کر سکے۔

تازہ ترین