• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کا صفحہ: معلومات، اخلاقی اقدار کی ترویج، انٹرٹینمنٹ ...

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

فارس کو پارس کردیا

اللہ تعالیٰ کے فضل سے آس رکھتا ہوں کہ اہلِ بزم خوش و خرم ہوں گے۔ ماہِ فروری کے چاروں جریدے دل لگا کے پڑھے، اچھے لگے، چارسورج نامے چمکے تو ہمارے چہرے بھی دمکے، مگر ماتھے بھی کچھ کچھ ٹھنکے۔ عید کی مصروفیات سے وقت نکال کرایک دن قلم کاروں اور عنوانات کو یک جا کیا۔ دوسرے دن تمام سلاسل کوالگ الگ اور تیسرے مرحلے میں تجزیہ تحریر کیا جا رہا ہے۔

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘، ’’حالات و واقعات‘‘، ’’احسنِ تقویم‘‘ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کے لکھاریوں نے چاروں ہفتے شان دار تحاریر پیش کیں۔ صدشُکر، چاروں جرائد میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ موجود تھا اور موضوعات، عنوانات کا بھی کوئی ثانی نہ تھا۔ ’’یومِ یک جہتیٔ کشمیر‘‘ کے موضوع پر بروقت تحریر شایع کی گئی۔ ’’مُلک کے بحرانوں کاحل شورائیت میں ہے‘‘ اچھا موضوع ہے۔

جنرل ضیاءالحق نے بھی آزما دیکھا، مگر مصنوعی ذہانت سے انقلاب لانے والوں میں اتنی ہمّت کہاں، جہاں اربوں کی خیرات کے باوجود گداگری زوروں پر ہو، وہاں کیا اُمید رکھی جائے۔ ’’سانحہ گل پلازا‘‘ پرکون ہوگا، جودل سے مغموم نہ ہو۔ موہن جو دڑو پر بہترین رپورٹ تیار کی گئی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ پر تجزیہ لاجواب تھا۔ عالمی افراتفری میں ڈپلومیسی اختیار کرنا، خارجہ پالیسی بنانا واقعی جان جوکھوں کا کام ہے۔

’’متفرق‘‘کے متفرق عنوانات پر اعلیٰ نگارشات نے معلومات میں بےحد اضافہ کیا۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں نہایت ہی اختصار سے کام لیا گیا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کی تحاریربھی قارئین کے لیےکسی تحفے سے کم نہ تھیں۔ ’’احسنِ تقویم‘‘نےتوگویا فارس کوپارس کر دیا۔ انور مسعود، افتخار عارف، مستنصر حسین تارڑ اور عطا الحق قاسمی، واللہ، اِنہیں کون نہیں جانتا، مگر جیسے رحمان فارس نے رُوشناس کروایا، سب ہی کا قد بلند تر ہوگیا۔ اچھا ہوگا، اگرناموں کی فہرست میں کچھ نئے دَور کے لوگ بھی شامل کیے جائیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ ، اِس سلسلے کا عرفان بھی مستند ہے۔ چاروں جریدوں کی تمام اقساط ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالیں، بہت ہی خوب بھئی۔ 

’’پیارا گھر‘‘ کے ہلکے پُھلکے متنوّع مضامین بھی بہت لُطف دیتے ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ’’ہرے دادا‘‘ پڑھ کے ’’اطمینان‘‘ حاصل ہوا۔ یوں لگا، جیسے ’’مَیں زندہ ہوں‘‘۔ ’’انتظار‘‘ کے بعد ’’تجربات کا نچوڑ‘‘، ’’جواہر پارے‘‘کی صُورت ملا۔’’اقوالِ مشاہیر‘‘کونثرکیا گیا، ’’نظم‘‘ کیا جاتا تو غزل بن جاتی اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر سلیم راجا کی دو مسندوں کا ’’شاہد‘‘ گواہ ٹھہرا۔ خطوط واقعتاً بہت ’’شائستہ‘‘ تھے۔ صفحے پر ایک بار ہماری تحریر بھی جگہ پا ہی گئی، جب کہ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ پر جزوی طور پہ قرأت نمایاں رہی۔ (ڈاکٹر محمد حمزہ خان ڈاھا، لاہور)

ج: فارس پہلے ہی پارس تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سے لوگوں پر اُن کی کئی چُھپی صلاحیتیں، گُن اب آشکار ہو رہے ہیں۔

دلی صدمہ ہوا

شمارہ ’’عبادتوں کا زمانہ، دُعا کا موسم ہے…‘‘عبارت کے ساتھ ملا۔ سرِورق تا سینٹر اسپریڈ تقدّس و پاکیزگی کا رنگ لیے شمارہ بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ افشاں نوید نے انتہائی خُوب صُورت رائٹ اپ لکھا۔ پیارا صفحہ، ہمارا صفحہ، ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی چمک دمک رہا تھا، بمعہ ہمارے نامے کے۔ ایک ضروری شکوہ ہے کہ ہمارا نامِ نامی مسلسل مختصر کیے جانے کا کیا سبب ہے، جب کہ اس سے بڑےبڑے نام، مثلاً صدیق فنکار اور محمّد سلام وغیرہ کے پورے پورے نام شامل کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی طویل غیرحاضری کے بعدتشریف لائیں اور خواتین کے لیے زندگی گزارنے کے کچھ رہنما اصول گوش گزار کیے۔ پروفیسر کشور سلطان نے بھی معاشرے کی کئی خرابیاں، خامیاں گنوائیں۔ روبینہ قریشی کی تحریر اصلاحی پہلو لیے ہوئے تھی۔ کلثوم پارس کا فسانہ ’’دشتِ تنہائی‘‘ میری نظر میں اس ہفتے کی بہترین تحریر تھی۔

ڈاکٹر عزیزہ انجم کی ’’آنکھ سمندر‘‘ بھی بہت اچھی لگی۔ دیگر مندرجات میں منور مرزا اور منیر احمد خلیلی کی جامع اور معلومات افزا نگارشات کا جواب نہ تھا۔ اگلا جریدہ مِلا۔ ’’جلوے بکھرگئے ہیں یہ کس خوش جمال کے…‘‘ عبارت کے ساتھ ماڈل بڑے بارعب و باوقار انداز سے ٹائٹل تا سینٹر اسپریڈ‘‘جلوہ افروز تھی۔ یوں لگا، جیسے گلشن میں، سفید و گلابی سُچّے گلاب کِھلے ہوں۔ پیراہن بھی اپنی اپنی جگہ سب ہی بہترین تھے۔

رائٹ اَپ شائستہ اظہر نے لکھا اور ہمیشہ کی طرح بہترین۔ دُعا ہے،’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفلیں، رونقیں سدا یوں ہی لگی رہیں۔ دیگرمندرجات میں فوزیہ حنیف، بلقیس متین کی تحریریں پسند آئیں۔ رانا محمّد شاہد کا افسانہ ’’فریبِ نظر‘‘ بھی دل چسپ لگا، لیکن اُن کےخط میں ایسی کوئی بات نہ تھی کہ جس کے سبب مرکزی چوکھٹے میں فٹ کیا گیا۔ رؤف ظفر راکٹس و میزائل کی تاریخ بتا رہے تھے۔ 

پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے رعشہ کے مرض پر مفصّل وجامع مضمون لکھا۔ ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بھانبڑہ کے تعارف اور بچپن کی یادوں پر مشتمل تحریر لاجواب تھی، مگر مدیرہ کا نوٹ پڑھ کر دلی صدمہ ہوا کہ یہ ڈاکٹر صاحب کی آخری تحریر ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ رحمان و رحیم اُن کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صدمۂ عظیم برداشت کرنے کی ہمت و حوصلہ عطا فرمائے۔ ہرقاری و لکھاری سے بھی التماس ہے کہ ایک بار ہاتھ اُٹھا کے اُن کی مغفرت کے لیے دُعا ضرور کریں۔ (محمّد صفدرخان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: ڈاکٹر رانجھا کی ناگہانی وفات پر واقعتاً دلی صدمہ ہوا۔ کچھ لوگوں کا خلا رہ ہی جاتا ہے،کبھی پُر نہیں ہوتا اور رانجھا صاحب ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے۔ اللہ رب العزت اُن کی بہترین مہمان نوازی فرمائے اور اُن کےاہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ اور نام کی اشاعت سے متعلق آپ کی شکایت کا جواب گزشتہ جریدے میں دیا جا چُکا ہے۔

معلومات، اخلاقی اقدار کی ترویج، انٹرٹینمنٹ

اللہ رب العزت آپ کو سلامت باکرامت رکھے، آنے والے دنوں میں ڈھیروں خوشیاں عطافرمائے۔گزشتہ دوماہ سے’’آپ کاصفحہ‘‘ سے غیرحاضر تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہرسال کی طرح رمضان المبارک میں نمازِ تراویح میں قرآنِ پاک سُنانے کی تیاری تھی۔ ماہِ رجب و شعبان میں ساری مصروفیات ختم کرکے صرف قرآن مجید کی دہرائی پر توجّہ مرکوز ہوتی ہے۔

اُن حفّاظِ کرام کے لیے، جنہوں نے نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید سُنانا ہو، یہ دو ماہ بے حد اہم ہوتے ہیں۔ ’’عیدالفطر ایڈیشن‘‘ زیرِ مطالعہ ہے، زیادہ تر مطالعہ مَیں ڈے لائٹ ہی میں کرتا ہوں۔ دن، ہفتے اور ماہ و سال ایسے تیزی سے گزر رہے ہیں کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا، حالاں کہ جب اسکول و مدرسے میں زیرِ تعلیم تھے، ایک ایک دن پہاڑ کی طرح معلوم ہوا کرتا تھا۔ 

’’سنڈے میگزین‘‘ میں مجھے آج کل سب سے اچھا سلسلہ ’’احسنِ تقویم‘‘ لگ رہا ہے، رحمان فارس بڑے ہی دل نشین انداز میں شخصیات کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، اُن کی تحریر سے لگتا ہے، اُن کو خود بھی آرٹ اور اچھا کھانے پینے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔

اُمید ہے، آنے والے دِنوں میں اُن کا قلم قوسِ قزح کے مزید رنگ بکھیرے گا۔ اللہ کریم بھی قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں کہ ’’لقدخلقنا الانسان فی احسنِ تقویم‘‘ ڈاکٹر سکندر اقبال کا مضمون ’’محروم طبقات کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا دن‘‘ بہت پسند آیا، رمضان المبارک اور عیدالفطر کے مواقع واقعتاً باہمی ہم دردی، انسان دوستی، ایثارومحبت اور سماجی ہم آہنگی کی تمثیل ٹھہرتے ہیں۔ اگر سارا سال یہی موسم رہے تو دنیا امن و محبت کا گہوارہ بن جائے۔

منور مرزا کا فکر انگیز مضمون ’’ایران جنگ کے پاکستان پرمعاشی اثرات‘‘سوفی صد حقائق پرمبنی تھا۔ وطنِ عزیز پاکستان کا کاروبارِحکومت تو چلتا ہی ٹیکسز اور قرضوں سےہے، تو ظاہر ہے، بدامنی کے منفی اثرات معیشت اور عوام پر تو مرتب ہوں گے ہی۔ ’’پیارا گھر‘‘ کی ذائقے دار تراکیب میں سےدو، شیرخرما اور چاولوں کی کھیر ہمارے گھر بھی تیار کی گئی۔

افشاں نوید کی قرآن و سُنّت کی روشنی میں لکھی گئی سبق آموز تحریر بہت پسند آئی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی نگارشات بھی خُوب تھیں، ارسلان خان ارسل کی نظم اور سرحد پار سے ذکی طارق بارہ بنکوی کی غزل اہل خانہ نے پسند کیں۔ ویسے عیدالفطر ایڈیشن کے تقریباً سبھی مضامین، بالخصوص ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، رابعہ فاطمہ اور ثانیہ انورکے انتہائی معلوماتی اور پُراثر تھے۔

بلاشبہ ’’سنڈے میگزین‘‘ میں علم بھی ہے، اخلاقی اقدار کی ترویج، اسباق، جدید دَور کی معلومات اور انٹرٹینمنٹ بھی۔ اللہ کرے، یہ بزم یوں ہی شادو آباد رہے۔ (حافظ عُمرعبدالرحمٰن ڈار، ہرن مینار روڈ، شیخو پورہ)

ج: سب سے پہلےتوآپ کونمازِ تراویح میں قرآنِ کریم سُنانے کی عظیم سعادت پربہت مبارک باد۔ اپنے والدین، خصوصاً والدہ اور اہلِ خانہ تک بھی ہماری مبارک باد پہنچائیےگا۔ رہی بات میگزین کے متنوّع ہونے کی، تو بھئی، اس ضمن میں ہماری تو بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ ہرطبقۂ فکر کے افراد کو اُن کی پسند اور دل چسپی کا سامان ملتا ہی رہے۔

نام کے ساتھ سیال کوٹ کیوں؟

براہِ مہربانی زاہد علی کے رام کہانیاں لکھنے پر اعتراض نہ کیا کریں، آپ ہی تو کہتی ہیں کہ ’’جو جی میں آئے لکھ بھیجیں۔‘‘ سو یہ تو آپ کو آفر دیتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔ ویسے بھی مُلک میں نام ہی کی سہی ’’جمہوریت‘‘ تو ہے۔ ہمیں بھی اس جمہوریت سے فائدہ اُٹھا لینے دیں اور ہاں، یہ شائستہ اظہر کے نام کے ساتھ سیال کوٹ کیوں لکھا جاتا ہے۔ جب آپ ’’اسٹائل رائٹ اَپ‘‘ لکھتی ہیں، تو آپ کے نام کے ساتھ کراچی تو نہیں لکھا جاتا۔ آپ کو تمام لکھاریوں کے ساتھ یک ساں سلوک کرنا چاہیے۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: صرف شائستہ کے نام کے ساتھ نہیں، مُلک بھر کے زیادہ تر لکھاریوں کے ناموں کے ساتھ اُن کے شہروں، علاقوں کے نام لکھے جاتے ہیں، مگر چوں کہ جریدے کے بیش تر لکھاریوں کا تعلق کراچی سے ہے، تو تکرار سے بچنے کے سبب ’’کراچی‘‘ کے لکھاریوں کے ناموں کے ساتھ عموماً شہر کا نام نہیں لکھتے اور اس معاملے میں کسی کے ساتھ کمی، زیادتی کا ہرگز کوئی پہلو نہیں ہے۔ 

اس ہفتے کی چٹھی

رسالہ موصول ہوا۔ سرِورق پرخوش جمال ماڈل کا جلوہ دیکھ کے ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی محفل میں حاضر ہوگئے، جو تعلیماتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال کی تلقین کررہےتھے۔ بلاشبہ مادرپدر آزادی سے اخلاقی قدریں بُری طرح متاثر ہورہی ہیں اور اس کی روک تھام ازحد ضروری ہے۔ کئی ممالک اِس ضمن میں قانون سازی کررہے ہیں۔

ہمارے یہاں خصوصاً پی ٹی آئی سے وابستہ افراد اپنے بانی کی محبّت میں ہرحد پھلانگ گئے ہیں، حالاں کہ کسی ایک شخص کی خاطرمُلکی مفادات پر ہرگز سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ منیراحمد خلیلی یہودیوں کی سازشوں کی رُوداد سُنارہے تھے۔

یہاں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا۔کہ پوری دنیا کی جان پنجۂ یہود میں ہے، جب کہ واحد سُپر پاور امریکا پر تو اِس کی مکمل گرفت ہے۔ منور مرزا مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کے گھناؤنے کھیل کی نشان دہی کررہے تھے۔ بات یہ ہے کہ ؎ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔ رحمان فارس’’معجزۂ اخوت، ڈاکٹر امجد ثاقب‘‘ کے فلاحی کارناموں کا ذکرِ خیر لائے۔

بلاشبہ، یہی لوگ پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ راناشاہد کا افسانہ ’’فریبِ نظر‘‘ بظاہر سنسنی خیز تھا، مگر کھودا پہاڑ، نکلا چوہا۔ قاضی جمشید عالم کا اہلِ خانہ کے ساتھ سلوک اور بلقیس متین کی اچھی باتیں اچھی لگیں۔ رؤف ظفر بارود بھرے بانسوں سے جدید طرز میزائلز تک کی تاریخ لائے۔

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کی، مادرِ علمی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بھانبڑہ سے متعلق آخری تحریر اور اُن کی جواں مرگ کا پڑھ کر دل حد درجہ رنجیدہ وغم گین ہوا، اللہ اُنہیں غریقِ رحمت کرے۔ ناصر علی پنھور صوبہ سندھ میں سیاحت کے مواقع اور چیلنجز کا تذکرہ کررہے تھے۔

بے شک، مُلک تو جنّت نظیر ہے، جس کے چپّے چپّے پرسیاحوں کے لیے بڑی کشش ہے،بس حُکم رانوں کی تھوڑی دل چسپی، توجّہ اور سنجیدگی درکار ہے۔ دنیا کے کئی ممالک صرف سیاحت کی آمدنی سے اپنا معاشی نظام بخیر وخوبی چلارہے ہیں، جب کہ ہم آئی ایم ایف کی ذلیل شرائط مان کرچند ارب ڈالرز کے لیے منّتیں سماجتیں کرتے پھرتے ہیں۔ عوام پر ٹیکسزکا بوجھ لاد کراُنہیں خُودکشیوں پرمجبور کیا جارہا ہے، مگر حُکم رانوں کی عیاشیاں وہیں کی وہیں ہیں۔ عوام کو بچت کا مشورہ دے کر خُود فضول خرچیوں اور مراعات سے مستفید ہوتے ہیں۔

محمد کاشف چین میں کرپٹو کرنسی پر پابندی کی وجوہ بتارہے تھے، تو عبدالستار ترین نے لاڑکانہ، جیکب آباد ریلوےلائن کی بندش کانوحہ سُنایا۔ ہمارے میرپور خاص میں بھی کئی رُوٹ اِسی ریلوے لائن بندش کا شکار ہوکر تباہ ہوگئے اور اب عوام ٹرانسپورٹرز کے رحم وکرم پر ہیں۔ فوزیہ حنیف’’بد اعمالیوں کے تاریک گڑھے‘‘ کے عنوان سے چشم کُشا مضمون لائیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی کا رائٹ اَپ تو اب آپ کے ہم پلّہ ہوتا جارہا ہے۔

اشعار کا تڑکا بھی حسبِ حال تھا۔ اختر سعیدی نےنئی کتابوں پرخُوب تبصرہ کیا۔ اور ہمارے صفحے کے وِنر رانا محمد شاہد ٹھہرے۔ اپریل آگیا، مگر ہمارا کھاتہ نہ کُھلا، آخرکتنی مختصر نویسی کریں، آٹھ صفحات سے چار پر آگئے ہیں۔ اب تویہی رہ گیا ہے کہ آپ کو سلام عرض لکھ کرخط پوسٹ کر دیا کریں۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: حیرت ہے، آپ لوگوں کو اپنے خطوط کی 50،60 فی صد ایڈیٹنگ کے بعد بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ درحقیقت ’’مختصر اور جامع‘‘ کا مطلب کیا ہوتاہے۔

گوشہ برقی خطوط

* سال 2025 ء کے نامہ نگاروں کی فہرست میں اپنا نام دیکھ کر دل بےحد مسرور ہوا۔ مَیں تو سمجھی اتنے عرصے سے میری کوئی تحریر میگزین کی زینت نہیں بنی، تو خدانخواستہ کوئی ناراضی ہے۔ اب غالب کا انداز ہی اپنانا پڑے گا۔ 

؎ کیوں میاں اب منو گے بھی ؟؟ خط بھی بھیجے، مگر جواب ندارد،تو لگا، شاید اب میرے خطوط بھی اس قابل نہ رہے۔ مگر پھر فہرست میں نام دیکھ کردل خوش ہوگیا۔ ایک خُوب صُورت شعربھی قارئین کی نذر کیا گیا، جس میں ’’حنائی ہاتھوں‘‘ کا ذکر تھا تو آپ کوخطوط تو حضرات بھی لکھتے ہیں۔ بہرحال، عزت افزائی کا بہت شکریہ۔ (نام نہیں لکھا)

ج: نام تولکھا کریں بھئی۔ ہم خُود ہی اندازے لگا رہے ہیں کہ کسے ہماری ناراضی کا گمان بھی ہوسکتا ہے۔ ای میل کا اسٹائل توعروبہ غزل یامشرقی لڑکی جیساہے۔ رہی بات حنائی ہاتھوں کی، تو شعر تو تمثیلاً لکھا گیا، مگرسچ یہ ہے کہ آج کل کے بیش ترمَردوں کو دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ اِنھیں ہاتھوں میں چوڑیاں پہننی، منہدی لگا رکھنی ہی چاہیے۔

* منور مرزا نے افغانستان میں امریکی اسلحے کی موجودگی سے متعلق ایک سنگین خطرے کی نشان دہی کی۔ اس خطرے کا براہِ راست تعلق پاکستان سے ہے۔ دو باتیں دماغ میں بٹھالیں۔ پہلی یہ کہ امریکا نے اپنا اسلحہ جان بوجھ کر افغانستان میں چھوڑا تاکہ ایک جانب افغانستان، تودوسری طرف پڑوس میں واقع امریکا دشمن ممالک (ایران، روس، چین) کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھا جائے۔

دوسری جانب پاکستان کو سبق سکھایا جائے، کیوں کہ انخلا سے قبل امریکیوں کو یقین ہوچُکا تھا کہ پاکستان اندر خانے طالبان کے ساتھ ملا ہواہے۔ دوسری بات، پاکستان لاکھ چیخے چلائے، امریکا کبھی بھی اپنا چھوڑا ہوا اسلحہ واپس نہیں لے گا کہ پاکستان کے ’’بڑوں‘‘ نے جس طرح 15 اگست 2021 ء کوطالبان کے ہاتھوں کابل فتح کا جشن منایا تھا، وہ امریکیوں کو ہرگز بھولا نہیں ہے۔ (محمّد کاشف، کراچی)

* کیا صفحات پر تحریر کیے ہوئے مضمون کی تصویرکھینچ کر اشاعت کے لیے بھیجی جا سکتی ہے یا مضمون لازماً ٹائپ کیا ہوا ہی ہونا چاہیے۔ (عرفان خان خانی)

ج: لازماً ٹائپ کیا ہوا ہی ہونا چاہیے۔ کسی بھی تحریر کا امیج کسی صُورت قابلِ قبول نہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید